حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَزْرَةَ عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ عَنْ يَحْيَی بْنِ الْجَزَّارِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنْ الْعَذَابِ الْأَدْنَی دُونَ الْعَذَابِ الْأَکْبَرِ قَالَ مَصَائِبُ الدُّنْيَا وَالرُّومُ وَالْبَطْشَةُ أَوْ الدُّخَانُ شُعْبَةُ الشَّاکُّ فِي الْبَطْشَةِ أَوْ الدُّخَانِ
دھوئیں کے بیان میں
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر شعبہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، غندر شعبہ، قتادہ، عزرہ حسن عرنی یحییٰ حزار عبدالرحمن ابن ابی لیلی حضرت ابی بن کعب ؓ سے اللہ عزوجل کے قول وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنْ الْعَذَابِ الْأَدْنَی دُونَ الْعَذَابِ الْأَکْبَرِ ) ہم ضرور بالضرور بڑے عذاب سے پہلے انہیں چھوٹے عذاب دیں گے کے بارے میں روایت ہے کہ اس سے مراد دنیا کی مصیبتیں (غلبہ) روم بطشہ (غزوہ بدر) یا دھواں ہے اور شعبہ کو بطشہ یا دخان میں شک ہے۔
Ubayy bin Kab reported that the words of Allah, the Exalted and Glorious: "We will, surely, make them taste the lesser punishment before the severer punishment (that they may return)" (xxxii. 21) imply the torments of the world. (victory of) Rome, seizing (of the Makkahns), or smoke. And Shalba was in doubt about seizing or smoke.
Top