صحيح البخاری - بیماریوں کا بیان - حدیث نمبر 4559
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمْ يَکُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الشَّهْرِ مِنْ السَّنَةِ أَکْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ وَکَانَ يَقُولُ خُذُوا مِنْ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَمَلَّ حَتَّی تَمَلُّوا وَکَانَ يَقُولُ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَی اللَّهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ وَإِنْ قَلَّ
رمضان کے علاوہ دوسر مہینوں میں نبی ﷺ کے روزوں اور ان کے استحباب کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، معاذ بن ہشام، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کسی مہینہ میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے اور آپ فرماتے تھے کہ تمہیں جتنی طاقت ہو اتنے اعمال کرو کیونکہ اللہ تمہیں (اجر عطا کرنے سے) نہیں تھکتا۔ یہاں تک کہ تم تھک نہ جاؤ اور آپ ﷺ فرماتے تھے کہ اللہ کے نزدیک اعمال میں سے سب محبوب وہ عمل ہے جس پر اسے کوئی کرنے والا ہمیشگی کے ساتھ کرے اگرچہ وہ کم ہو۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported: The Messenger of Allah ﷺ did not observe fast in any month of the year more than in the month of Shaban, and used to say: Do as many deeds as you are capable of doing, for Allah will not become weary (of giving you reward), but you would be tired (of doing good deeds); and he also said: The deed liked most by Allah is one to which the doer adheres constantly even if it is small.
Top