صحيح البخاری - ہبہ کرنے کا بیان - حدیث نمبر 2994
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ مَرَّ ابْنُ عُمَرَ بِفِتْيَانٍ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ نَصَبُوا طَيْرًا وَهُمْ يَرْمُونَهُ وَقَدْ جَعَلُوا لِصَاحِبِ الطَّيْرِ کُلَّ خَاطِئَةٍ مِنْ نَبْلِهِمْ فَلَمَّا رَأَوْا ابْنَ عُمَرَ تَفَرَّقُوا فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ مَنْ فَعَلَ هَذَا لَعَنْ اللَّهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنْ اتَّخَذَ شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا
جانور کو باندھ کر مارنے کی ممانعت کے بیان میں
زہیر بن حرب، ہشیم، ابوبشر، حضرت سعید بن جبیر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ چند قریشی نوجوانوں کے پاس سے گزرے کہ وہ ایک پرندہ کو شکار بنا کر اسے تیر مار رہے تھے اور انہوں نے پرندے کے مالک سے یہ طے کر رکھا تھا کہ جو تیر نشانہ پر نہ لگے اس کو وہ لے لے تو جب ان نوجوانوں نے حضرت ابن عمر ؓ کو دیکھا تو وہ علیحدہ علیحدہ ہوگئے حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا یہ کس نے کیا ہے؟ جو اس طرح کرے اس پر اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور رسول اللہ ﷺ نے بھی ایسے آدمی پر لعنت فرمائی ہے کہ کسی جاندار کو نشانہ بنائے۔
Said bin Jubair reported that Ibn Umar happened to pass by some young men of the Quraish who had tied a bird (and this made it a target) at which they had been shooting arrows. Every arrow that they missed came into the possession of the owner of the bird. So no sooner did they see Ibn Umar they went away. Ibn Umar said: Who has done this? Allah has cursed him who does this. Verily Allahs Messenger ﷺ invoked curse upon one who made a live thing the target (of ones marksmanship).
Top