صحيح البخاری - ہبہ کرنے کا بیان - حدیث نمبر 3059
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ کَانَتْ ثَقِيفُ حُلَفَائَ لِبَنِی عُقَيْلٍ فَأَسَرَتْ ثَقِيفُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَسَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ وَأَصَابُوا مَعَهُ الْعَضْبَائَ فَأَتَی عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْوَثَاقِ قَالَ يَا مُحَمَّدُ فَأَتَاهُ فَقَالَ مَا شَأْنُکَ فَقَالَ بِمَ أَخَذْتَنِي وَبِمَ أَخَذْتَ سَابِقَةَ الْحَاجِّ فَقَالَ إِعْظَامًا لِذَلِکَ أَخَذْتُکَ بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِکَ ثَقِيفَ ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهُ فَنَادَاهُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَقِيقًا فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا شَأْنُکَ قَالَ إِنِّي مُسْلِمٌ قَالَ لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِکُ أَمْرَکَ أَفْلَحْتَ کُلَّ الْفَلَاحِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَادَاهُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ فَأَتَاهُ فَقَالَ مَا شَأْنُکَ قَالَ إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي وَظَمْآنُ فَأَسْقِنِي قَالَ هَذِهِ حَاجَتُکَ فَفُدِيَ بِالرَّجُلَيْنِ قَالَ وَأُسِرَتْ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَأُصِيبَتْ الْعَضْبَائُ فَکَانَتْ الْمَرْأَةُ فِي الْوَثَاقِ وَکَانَ الْقَوْمُ يُرِيحُونَ نَعَمَهُمْ بَيْنَ يَدَيْ بُيُوتِهِمْ فَانْفَلَتَتْ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنْ الْوَثَاقِ فَأَتَتْ الْإِبِلَ فَجَعَلَتْ إِذَا دَنَتْ مِنْ الْبَعِيرِ رَغَا فَتَتْرُکُهُ حَتَّی تَنْتَهِيَ إِلَی الْعَضْبَائِ فَلَمْ تَرْغُ قَالَ وَنَاقَةٌ مُنَوَّقَةٌ فَقَعَدَتْ فِي عَجُزِهَا ثُمَّ زَجَرَتْهَا فَانْطَلَقَتْ وَنَذِرُوا بِهَا فَطَلَبُوهَا فَأَعْجَزَتْهُمْ قَالَ وَنَذَرَتْ لِلَّهِ إِنْ نَجَّاهَا اللَّهُ عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا فَلَمَّا قَدِمَتْ الْمَدِينَةَ رَآهَا النَّاسُ فَقَالُوا الْعَضْبَائُ نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّهَا نَذَرَتْ إِنْ نَجَّاهَا اللَّهُ عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرُوا ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ بِئْسَمَا جَزَتْهَا نَذَرَتْ لِلَّهِ إِنْ نَجَّاهَا اللَّهُ عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا لَا وَفَائَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةٍ وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِکُ الْعَبْدُ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ حُجْرٍ لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ
اللہ کی نا فرمانی کی نذر پورا نہ کرے اور جس پر قادر نہ ہو اسے پورا نہ کرنے کا بیان
زہیر بن حرب، علی بن حجر سعدی، زہیر، اسماعیل بن ابراہیم، ایوب، ابی قلابہ، ابی المہلب، حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ ثقیف، بنوعقیل کے حلیف تھے ثقیف نے اصحاب رسول اللہ ﷺ میں سے دو آدمیوں کو قید کرلیا اور اصحاب رسول اللہ ﷺ نے بنی عقیل میں سے آدمی کو قید کرلیا اور اس کے ساتھ عضباء اونٹنی کو بھی گرفتار کیا۔ رسول اللہ ﷺ اس کے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ بندھا ہوا تھا۔ اس نے کہا اے محمد ﷺ! آپ ﷺ اس کے پاس آئے اور اس سے کہا کیا بات ہے؟ تو اس نے عرض کیا آپ ﷺ نے مجھے کیوں پکڑا اور کس وجہ سے حاجیوں (کی اونٹنیوں) پر سبقت لے جانے والی (او نٹنی) کو گرفتار کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا اس بڑے قصور کی وجہ سے میں نے تجھے تمہارے حلیف ثقیف کے بدلے گرفتار کیا ہے۔ پھر آپ اس سے لوٹے تو اس نے آپ ﷺ کو اے محمد! اے محمد! کہہ کر پکارا اور رسول اللہ ﷺ مہربان اور نرم دل تھے آپ اس کی طرف لوٹے تو پھر فرمایا کیا بات ہے تو اس نے کہا میں مسلمان ہوں آپ نے فرمایا کاش تو یہ بات اس وقت کہتا جب تو اپنے معاملہ کا مکمل طور پر مالک تھا تو تو پوری کامیابی حاصل کرچکا ہوتا یہ کہہ کر آپ ﷺ پھر لوٹے تو اس نے آپ ﷺ کو یا محمد! یا محمد کہہ کر پکارا۔ آپ ﷺ اس کے پاس آئے اور فرمایا کیا بات ہے؟ تو اس نے کہا میں بھوکا ہوں مجھے کھلائیے اور میں پیاسا ہو مجھے پلائے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ تیری حاجت و ضرورت ہے یعنی اسے کھلایا اور پلایا۔ پھر اسے ان دو آدمیوں کا فدیہ بنایا گیا۔ (جنہیں ثقیف نے گرفتار کیا تھا) راوی کہتا ہے کہ انصار میں سے ایک عورت اور عضباء (اونٹنی) گرفتار کرلی گئی اور وہ عورت بندھی ہوئی تھی اور قوم کے لوگ اپنے گھروں کے سامنے اپنے جانوروں کو آرام دے رہے تھے ایک دن وہ گرفتاری سے بھاگ نکلی اور اونٹوں کے پاس آئی جب وہ کسی اونٹ کے پاس جاتی وہ آواز نکالتا تو وہ اسے چھوڑ دیتی یہاں تک کہ وہ عضباء تک پہنچی تو اس نے آواز نہ کی اور وہ اونٹنی نہایت مسکین تھی تو وہ عورت اس کی پیٹھ پر بیٹھ گئی پھر اسے ڈانٹا تو چل دی۔ کافروں کو خبر ہوئی۔ وہ اس کی تلاش میں نکلے تو عضباء نے ان کو عاجز کردیا۔ راوی کہتا ہے اور اس نے اللہ کے لئے نذر مانی کہ اگر اس عضباء نے اسے نجات دلا دی تو وہ اس ناقہ کو قربان کر دے گی جب وہ مدینہ آئی اور لوگوں نے اسے دیکھا تو انہوں نے کہا یہ عضباء تو رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی ہے۔ تو اس عورت نے کہا کہ اس (میں) نے نذر مانی ہے کہ اگر اللہ اسے اس اونٹنی کے ساتھ نجات دے تو اسے نحر کرے گی۔ صحابہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا اللہ پاک ہے اس عورت نے اس اونٹنی کو برا بدلہ دیا کہ اس نے اللہ کے لئے نذر مانی اگر اللہ اسے اس پر سوار ہونے کی صورت میں نجات دے تو وہ اسے نحر کرے گی۔ نافرمانی کے لئے مانی جانے والی نذر کا پورا کرنا ضر روی نہیں اور نہ ہی اس چیز کی نذر جس کا انسان مالک نہیں ہے اور ابن حجر کی روایت میں ہے اللہ کی نافرمانی میں نذر نہیں ہے۔
Imran bin Husain reported that the tribe of Thaqif was the ally of Banu Uqail. Thaqif took two persons from amongst the Companions of Allahs Messenger ﷺ as prisoners. The Campanions of Allahs Messenger ﷺ took one person at Banu Uqail as prisoner, and captured al-Adbi (the she-camel of the Holy Prophet) along with him. Allahs Messenger ﷺ came to him and he was tied with ropes. He said: Muhammad. He came near him and said: What is the matter with you? Thereupon he (the prisoner) said: Why have you taken me as prisoner and why have you caught hold of one proceeding the pilgrims (the she-camel as she carried the Holy Prophet ﷺ on her back and walked ahead of the multitude)? He (the Holy Prophet) said: (Yours is a great fault). I (my men) have caught hold of you for the crime of your allies, Banu Thaqif. He (the Holy Prophet) then turned away. He again called him and said: Muhammad, Muhammad, and since Allahs Messenger ﷺ was very compassionate, and tenderhearted, he returned to him, and said: What is the matter with you? He said: I am a Muslim, whereupon he (the Holy Prophet) said: Had you said this when you had been the master of yourself, you would have gained every success. He then turned away. He (the prisoner) called him again saying: Muhammad, Muhammad. He came to him and said: What is the matter with you? He said: I am hungry, feed me, and I am thirsty, so provide me with drink. He (the Holy Prophet) said: That is (to satisfy) your want. He was then ransomed for two persons (who had been taken prisoner by Thaqif). He (the narrator) said: A woman of the Ansar had been taken prisoner and also al-Adbi was caught. The woman had been tied with ropes. The people were giving rest to their animals before their houses. She escaped one night from the bondage and came to the camels. As she drew near the camels, they fretted and fumed and so she left them until she came to al-, Adbi. It did not fret and fume; it was docile She rode upon its back and drove it away and she went off. When they (the enemies of Islam) were warned of this, they went in search of it, but it (the she-camel) exhausted them. She (the woman) took vow for Allah, that in case He would save her through it, she would offer that as a sacrifice. As she reached Madinah, the people saw her and they said: Here is al-Adbi, the she-camel of Allahs Messenger ﷺ . She (the woman) said that she had taken a vow that if Allah would save her on its back, she would sacrifice it. They (the Prophets Companions) came to Allahs Messenger ﷺ and made a mention of that to him, whereupon he said: Hallowed be Allah, how ill she rewarded it that she took vow to Allah that if He saves her on its back, she would sacrifice it! There is no fulfilment of the vow in an act of disobedience, nor in an act over which a person has no control. In the version of Ibn Hujr (the words are): "There is no vow in disobedience to Allah."
Top