صحيح البخاری - شرطوں کا بیان - حدیث نمبر 3256
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ فِي رِجَالٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ صَحِيحٌ إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّی يُرَی مَقْعَدُهُ فِي الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخَيَّرُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ عَلَی فَخِذِي غُشِيَ عَلَيْهِ سَاعَةً ثُمَّ أَفَاقَ فَأَشْخَصَ بَصَرَهُ إِلَی السَّقْفِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَی قَالَتْ عَائِشَةُ قُلْتُ إِذًا لَا يَخْتَارُنَا قَالَتْ عَائِشَةُ وَعَرَفْتُ الْحَدِيثَ الَّذِي کَانَ يُحَدِّثُنَا بِهِ وَهُوَ صَحِيحٌ فِي قَوْلِهِ إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّی يَرَی مَقْعَدَهُ مِنْ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخَيَّرُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَکَانَتْ تِلْکَ آخِرُ کَلِمَةٍ تَکَلَّمَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلَهُ اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَی
سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کے فضائل کے بیان میں
عبدالملک بن شعیب بن لیث، ابن سعد ابی جدی عقیل بن خالد ابن شہاب سعید بن مسیب عروہ بن زبیر، سیدہ عائشہ ؓ نبی کی زوجہ مطہرہ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ اس حال میں کہ آپ تندرست تھے فرماتے ہیں کہ کوئی نبی اس وقت تک اس دنیا سے رخصت نہیں ہوتا جب تک کہ اسے جنت میں اس کا مقام نہ دکھا دیا جائے پھر اختیار نہ دے دیا جائے سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ کے وصال کا وقت آگیا تو آپ ﷺ کے سر مبارک میری ران پر تھا آپ ﷺ پر کچھ دیر غشی طاری رہی پھر افاقہ ہوا اور آپ نے اپنی نگاہ چھت کی طرف کی پھر فرمایا اے اللہ مجھے رفیق اعلی سے ملا دے سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اس وقت میں نے کہا اب آپ ﷺ ہمیں اختیار نہیں فرمائیں گے اور مجھے وہ حدیث یاد آگئی جو آپ ﷺ نے ہمیں صحت و تندرستی کی حالت میں بیان فرمائی تھی کہ کسی نبی کی روح اس وقت تک قبض نہیں کی گئی جب تک کہ اسے جنت میں اس کا مقام نہ دکھا دیا جائے پھر اسے اختیار نہ دے دیا جائے سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جو بات فرمائی اس کا آخری کلمہ یہ تھا کہ آپ ﷺ نے فرمایا (اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَی) اے اللہ مجھے رفیق اعلی سے ملا دے۔
Aisha, the wife of Allahs Apostle ﷺ , reported that he used to say: Never a prophet dies in a state that he is not made to see his abode in Paradise, and then given a choice. Aisha said that when Allahs Messenger ﷺ was about to leave the world, his head was over her thigh and he had fallen into swoon three times. When he felt relief his eyes were fixed at the ceiling. He then said: O Allah, along with the high companions (i. e. along with the Apostles who live in the most elevated place of the Paradise). (On hearing these words), I then said (to myself) He is not going to opt us and I remembered a hadith which he had narrated to us as he was healthy and in which he said: No prophet dies until he sees his abode in Paradise, he is then given a choice. Aisha said: These were the last words which Allahs Messenger ﷺ spoke (the words are): O Allah, with companions on High.
Top