صحيح البخاری - فرائض کی تعلیم کا بیان - حدیث نمبر 313
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ وَعَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ قَالَ عَوْنٌ أَخْبَرَنَا و قَالَ ابْنُ يُونُسَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ خَبَّابٍ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَکَوْنَا إِلَيْهِ حَرَّ الرَّمْضَائِ فَلَمْ يُشْکِنَا قَالَ زُهَيْرٌ قُلْتُ لِأَبِي إِسْحَقَ أَفِي الظُّهْرِ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ أَفِي تَعْجِيلِهَا قَالَ نَعَمْ
سخت گرمی کے علاوہ ظہر کی نماز پہلے وقت میں پڑھنے کے استحباب کے بیان میں
احمد بن یونس، عون بن سلام، عون ابن یونس، زہیر، ابواسحاق، سعید بن وہب، حضرت خباب ؓ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور سخت گرمی کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے ہماری شکایت کو دور نہیں فرمایا زہیر نے کہا کہ میں نے ابواسحاق سے کہا کہ کیا ظہر؟ انہوں نے کہا ہاں میں نے کہا کیا ظہر کو جلدی پڑھیں؟ فرمایا ہاں۔
Khabbab reported: We came to the Messenger of Allah ﷺ and we complained to the Messenger of Allah ﷺ about (saying prayer) on the extremely heated ground (or sand), but he paid no heed to us. Zuhair said: I asked Abu Ishaq whether it was about the noon prayer. He said: Yes. I again said whether it concerned the (offering) of the noon (prayer) in earlier hours. He said: Yes. I said: Did it concern expediting it? He said: Yes.
Top