صحيح البخاری - طلاق کا بیان - حدیث نمبر 4688
قَالَتْ زَيْنَبُ ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَی زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا فَدَعَتْ بِطِيبٍ فَمَسَّتْ مِنْهُ ثُمَّ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَی الْمِنْبَرِ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ عَلَی مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَی زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا
بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں
حضرت زینب ؓ فرماتی ہیں پھر میں حضرت زینب بنت جحش کے پاس گئی جس وقت ان کے بھائی وفات پا گئے تو انہوں نے بھی خوشبو منگوا کر لگائی پھر فرمانے لگیں اللہ کی قسم مجھے خوشبو کی کوئی ضرورت نہ تھی سوائے اس کے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا کہ ایسی عورت کے لئے حلال نہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی بھی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے سوائے اس کے کہ جس کا خاوند وفات پا جائے تو وہ اپنے خاوند پر چار ماہ اور دس دن تک سوگ کرسکتی ہے۔
." Zainab said: I then visited Zainab bint Jahsh (Allah be pleased with her) when her brother died and she sent for perfume and applied it and then said: By Allah, I dont feel any need for the perfume but that I heard Allahs Messenger ﷺ say on the pulpit: "It is not permissible for a woman believing in Allah and the Hereafter to mourn the dead beyond three days except in case of her husband (for whom she can mourn) for four months and ten days.
Top