صحيح البخاری - نماز کسوف کا بیان - حدیث نمبر 5254
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلَّی فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ فَلَمَّا فَرَغَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ وَأَتَی النِّسَائَ فَذَکَّرَهُنَّ وَهُوَ يَتَوَکَّأُ عَلَی يَدِ بِلَالٍ وَبِلَالٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ يُلْقِينَ النِّسَائُ صَدَقَةً قُلْتُ لِعَطَائٍ زَکَاةَ يَوْمِ الْفِطْرِ قَالَ لَا وَلَکِنْ صَدَقَةً يَتَصَدَّقْنَ بِهَا حِينَئِذٍ تُلْقِي الْمَرْأَةُ فَتَخَهَا وَيُلْقِينَ وَيُلْقِينَ قُلْتُ لِعَطَائٍ أَحَقًّا عَلَی الْإِمَامِ الْآنَ أَنْ يَأْتِيَ النِّسَائَ حِينَ يَفْرُغُ فَيُذَکِّرَهُنَّ قَالَ إِي لَعَمْرِي إِنَّ ذَلِکَ لَحَقٌّ عَلَيْهِمْ وَمَا لَهُمْ لَا يَفْعَلُونَ ذَلِکَ
نماز عیدین کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، عطاء، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ عیدالفطر کے دن کھڑے ہوئے اور نماز سے ابتداء کی خطبہ سے پہلے پھر لوگوں کو خطبہ دیا جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو منبر سے اتر آئے اور عورتوں کے پاس تشریف لائے اور آپ ﷺ نے حضرت بلال کے ہاتھ پر سہارا لگائے ہوئے ان کو نصیحت کی اور حضرت بلال اپنا کپڑا پھیلانے والے تھے عورتیں اس میں صدقہ ڈالتی تھیں راوی کہتے ہیں میں نے عطاء سے عرض کیا کہ عیدالفطر کے دن کا صدقہ؟ فرمایا نہیں یہ اور صدقہ تھا جو وہ اس وقت دیتی تھیں ایک عورت پہلے ڈالتی تھی اور پھر مزید ڈالتی تھیں اور دوسرے راوی کہتے ہیں کہ میں نے عطا سے پوچھا کیا اب بھی امام کے لئے فارغ ہونے کے بعد عورتوں کو نصیحت کرنے کے لئے جانے کا حق ہے؟ فرمایا مجھے اپنی جان کی قسم یہ ان پر حق ہے اور ان کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایسا نہیں کرتے۔
Jabir bin Abdullah reported: The Apostle of Allah ﷺ stood up on the day of Id al-Fitr and observed prayer. And he commenced the prayer before the sermon. He then delivered the sermon. When the Apostle of Allah ﷺ had finished (the sermon) he came down from (the pulpit), and made his way to the women and exhorted them (to do good acts), and he was leaning on the hand of Bilal (RA) . Bilal (RA) had stretched his cloth in which women were throwing alms. I (one of the narrators) said to Ata (the other narrator): It must be Zakat on the day of Fitr. He (Ata) said: No. It was alms (which) they were giving on that occasion, and a woman gave her ring, and then others gave, and then others gave. I said to Ata: Is it right now for the Imam to come to the women when he has finished (his address to the men) that he should exhort them (to good deeds)? He said: (Why not) by my life, it is right for them (to do so). What is the matter with them that they do not do it now?
Top