صحيح البخاری - ذبیحوں اور شکار کا بیان - حدیث نمبر 3611
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي نَعَامَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ کَيْفَ أَنْتُمْ أَوْ قَالَ کَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا فَصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ثُمَّ إِنْ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَصَلِّ مَعَهُمْ فَإِنَّهَا زِيَادَةُ خَيْرٍ
اس بات کے بیان میں کہ مختار (مستحب) وقت سے نماز کو تاخیر سے پڑھنا مکروہ ہے اور جب امام تاخیر کرے تو مقتدی بھی ایسے ہی کریں۔
عاصم بن نضر تیمی، خالد بن حارث، شعبہ، ابونعامہ، عبداللہ بن صامت، حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں کہ تمہارا کیا حال ہوگا یا فرمایا کہ تیرا کیا حال ہوگا کہ جب تو ایسے لوگوں میں باقی رہ جائے گا جو نماز کو اپنے وقت سے دیر کر کے پڑھتے ہیں تو نماز کو اپنے وقت پر پڑھ اگر نماز کھڑی ہوجائے تو تو ان کے ساتھ نماز پڑھ کیونکہ یہ زیادہ بہتر ہے۔
Abu Dharr (RA) reported: (The Messenger of Allah) ﷺ said: How would you, or how would thou, act if you survive to live among people who defer prayer beyond the (prescribed) time? (The narrator said: Allah and His Messenger know best). whereupon he said: Observe prayer at its prescribed time, but if when he hears the Iqamah is pronounced for (congregational) prayer, then observe prayer along with them. for herein is an excess of virtue.
Top