صحيح البخاری - مخلوقات کی ابتداء کا بیان - حدیث نمبر 7126
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْکُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَی الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَی الْجَنَّةِ وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ وَيَتَحَرَّی الصِّدْقَ حَتَّی يُکْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا وَإِيَّاکُمْ وَالْکَذِبَ فَإِنَّ الْکَذِبَ يَهْدِي إِلَی الْفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَی النَّارِ وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَکْذِبُ وَيَتَحَرَّی الْکَذِبَ حَتَّی يُکْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ کَذَّابًا
جھوٹ بولنے کی برائی اور سچ بولنے کی اچھائی اور اس کے فضلیت کے بیان میں
محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابومعاویہ وکیع، ابوکریب ابومعاویہ اعمش، شقیق حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم پر سچ بولنا لازم ہے کیونکہ سچ بولنا نیکی کا راستہ دکھاتا ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے اور انسان لگاتار سچ بولتا رہتا ہے اور سچ بولنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں سچا لکھ دیا جاتا ہے اور تم لوگ جھوٹ بولنے سے بچو کیونکہ جھوٹ برائی کا راستہ دکھاتا ہے اور برائی دوزخ کا راستہ دکھاتی ہے اور انسان لگاتار جھوٹ بولتا رہتا ہے جھوٹ بولنے کا متمنی رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔
Abdullah reported Allahs Messenger ﷺ as saying: It is obligatory for you to tell the truth, for truth leads to virtue and virtue leads to Paradise, and the man who continues to speak the truth and endeavours to tell the truth is eventually recorded as truthful with Allah, and beware of telling of a lie for telling of a lie leads to obscenity and obscenity leads to Hell-Fire, and the person who keeps telling lies and endeavours to tell a lie is recorded as a liar with Allah.
Top