صحیح مسلم - - حدیث نمبر 1152
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سِمَاکٌ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَکُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ کَثِيرًا کَانَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ الصُّبْحَ أَوْ الْغَدَاةَ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتْ الشَّمْسُ قَامَ وَکَانُوا يَتَحَدَّثُونَ فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ فَيَضْحَکُونَ وَيَتَبَسَّمُ
صبح (فجر) کی نماز کے بعد اپنی جگہ پر بیٹھے رہنے اور مسجدوں کی فضیلت کے بیان میں
احمد بن عبداللہ بن یونس، زہیر، سماک بن حرب، یحییٰ بن یحیی، ابوخیثمہ، سماک بن حرب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ سے عرض کیا کہ کیا آپ ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے انہوں نے فرمایا کہ ہاں بہت زیادہ۔ آپ ﷺ اپنی جگہ سے کھڑے نہیں ہوتے تھے جس جگہ صبح کی نماز پڑھتے تھے جب تک کہ سورج نہ نکل آتا پھر جب سورج نکل آتا تو آپ ﷺ کھڑے ہوجاتے اور لوگ باتیں کرتے رہتے تھے اور زمانہ جاہلیت کا تذکرہ کرتے اور ہنستے اور آپ ﷺ بھی مسکراتے۔
Simak bin Harb reported: I said to Jabir bin ahadeeth: Did you sit in the company of the Messenger of Allah ﷺ (may peace he upon him)? He said: Yes, very often. He (the Holy Prophet) used to sit at the place where he observed the morning or dawn prayer till the sun rose or when it had risen; he would stand, and they (his Companions) would talk about matters (pertaining to the days) of ignorance, and they would laugh (on these matters) while (the Holy Prophet) only smiled.
Top