صحيح البخاری - ذبیحوں اور شکار کا بیان - حدیث نمبر 6819
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ کَتَبَ إِلَيْنَا عُمَرُ وَنَحْنُ بِأَذْرَبِيجَانَ يَا عُتْبَةُ بْنَ فَرْقَدٍ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ کَدِّکَ وَلَا مِنْ کَدِّ أَبِيکَ وَلَا مِنْ کَدِّ أُمِّکَ فَأَشْبِعْ الْمُسْلِمِينَ فِي رِحَالِهِمْ مِمَّا تَشْبَعُ مِنْهُ فِي رَحْلِکَ وَإِيَّاکُمْ وَالتَّنَعُّمَ وَزِيَّ أَهْلِ الشِّرْکِ وَلَبُوسَ الْحَرِيرَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ لَبُوسِ الْحَرِيرِ قَالَ إِلَّا هَکَذَا وَرَفَعَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِصْبَعَيْهِ الْوُسْطَی وَالسَّبَّابَةَ وَضَمَّهُمَا قَالَ زُهَيْرٌ قَالَ عَاصِمٌ هَذَا فِي الْکِتَابِ قَالَ وَرَفَعَ زُهَيْرٌ إِصْبَعَيْهِ
مردوں کے لئے ریشم وغیرہ پہننے کی حرمت کے بیان میں
احمد بن عبداللہ بن یونس، زہیر، عاصم احول، ابی عثمان، حضرت ابوعثمان ؓ فرماتے ہیں کہ جب ہم آذر بائیجان میں تھے تو حضرت عمر ؓ نے ہمیں لکھا کہ اے عقبہ بن فرقد! (تیرے پاس یہ جو مال ہے) نہ تیری محنت سے ہے اور نہ ہی تیرے باپ کی محنت سے اور نہ ہی تیری ماں کی محنت سے تجھے حاصل ہوا ہے اس لئے مسلمانوں کو ان کی جگہوں پر پوری طرح سے وہ چیز پہنچا دے جو تو اپنی جگہ پر پہنچاتا ہے اور تمہیں عیش و عشرت اور مشرکوں والے لباس اور ریشم پہننے سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ رسول اللہ ﷺ ریشمی لباس پہننے سے منع فرماتے تھے سوائے اس قدر اور رسول اللہ ﷺ نے ہمارے سامنے اپنی درمیانی انگلی اور شہادت کی انگلی کو اٹھایا اور دونوں کو ملایا راوی زہیر کہتے ہیں کہ عاصم نے کہا کتاب میں اسی طرح سے ہے اور زہیر نے اپنی دونوں انگلیاں اٹھا کر بتایا۔
Asim al-Abwal reported on the authority Abu Uthman saying: Umar wrote to us when we were in Adharbaijan saying: Utba bin Farqad, this wealth is neither the result of your own labour nor the result of the labour of your father, nor the result of the labour of your mother, so feed Muslims at their own places as you feed (members of your family and yourselves at your own residence), and beware of the life of pleasure, and the dress of the polytheists and wearing of silk garments, for Allahs Messenger ﷺ forbade the wearing of silk garments, but only this much, and Allahs Messenger ﷺ raised his. forefinger and middle finger and he joined. them (to indicate that only this much silk can be allowed in the dress of a man). Asim said also: This is what is recorded in the lette., (sent to us), and Zuhair raised his two fingers (to give an idea of the extent to which silk may be used).
Top