صحيح البخاری - طب کا بیان - حدیث نمبر 4235
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ دَاوُدَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ خَالَهُ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ نِيَارٍ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ اللَّحْمُ فِيهِ مَکْرُوهٌ وَإِنِّي عَجَّلْتُ نَسِيکَتِي لِأُطْعِمَ أَهْلِي وَجِيرَانِي وَأَهْلَ دَارِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعِدْ نُسُکًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عِنْدِي عَنَاقَ لَبَنٍ هِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ فَقَالَ هِيَ خَيْرُ نَسِيکَتَيْکَ وَلَا تَجْزِي جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَکَ
قربانی کے وقت کا بیان
یحییٰ بن یحیی، ہشیم، داؤد، شعبی، حضرت برا ؓ بن عازب سے روایت ہے کہ ان کے خالو حضرت ابوبردہ بن نیار ؓ نے نبی ﷺ کی قربانی ذبح ہونے سے پہلے اپنی قربانی ذبح کی اور انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ یہ وہ دن ہے کہ جس میں گوشت کی خواہش رکھنا مکروہ ہے اور میں نے اپنی قربانی جلدی کرلی ہے تاکہ میں اپنے گھر والوں اور ہمسایوں کو کھلاؤں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو دوبارہ قربانی کر انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میرے پاس ایک کم عمر دودھ والی بکری ہے وہ گوشت کی دو بکریوں میں بہتر ہے تو آپ نے فرمایا یہی تیری دونوں قربا نیوں میں بہتر ہے اور اب تیرے بعد ایک سال سے کم عمر کی بکری کسی کے لئے جائز نہ ہوگی۔
Al-Bara bin Azib (RA) reported that his maternaluncle Abu Burda bin Niyar sacrificed his animal earlier than the Holy Prophet ﷺ had sacrificed. Thereupon he said: Apostle of Allah ﷺ , it is the day of meat and it is not desirable (to have longing for it and not to make use of it immediately), so I hastened in offering my animal as a sacrifice, so that I might feed my family and neighbours and my kith and kin. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Offer again your sacrifice. He said: Messenger of Allah, I have a small milch goat of less than one year, and that is better than two dry goats (from which only) meat (can be acquired). Thereupon he said: That is better than the two animals of sacrifice on your behalf, and the sacrifice of a goat, of less than six months shall not be accepted as a sacrifice on behalf of anyone after your (sacrifice).
Top