صحیح مسلم - - حدیث نمبر 3000
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُزَابَنَةِ أَنْ يَبِيعَ ثَمَرَ حَائِطِهِ إِنْ کَانَتْ نَخْلًا بِتَمْرٍ کَيْلًا وَإِنْ کَانَ کَرْمًا أَنْ يَبِيعَهُ بِزَبِيبٍ کَيْلًا وَإِنْ کَانَ زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهُ بِکَيْلِ طَعَامٍ نَهَی عَنْ ذَلِکَ کُلِّهِ وَفِي رِوَايَةِ قُتَيْبَةَ أَوْ کَانَ زَرْعًا
عرایا کے علاوہ تر کھجوروں کی خشک کھجوروں کے ساتھ بیع کی حرمت کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، نافع، حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا کہ اپنے باغ کے پھل اگر وہ کھجور کے درخت ہوں تو خشک کھجور کے ساتھ وزن کر کے اور اگر انگور ہوں تو کشمش کے ساتھ وزن کر کے بیچے اور اگر کھیتی ہو تو اس کو اناج کے ساتھ وزن کر کے بیچے آپ ﷺ نے ان سب سے منع فرمایا اور قتیبہ کی روایت میں (أَوْ کَانَ زَرْعًا) ہے۔
Abdullah (b. Umar) (RA) reported Allahs Messenger ﷺ having forbidden Mazabana, and it implies that one should sell the fresh fruits of his orchard (for dry fruits) or, if it is fresh dates, for dry dates with a measure, or if it is grapes for raisins or if it is corn in the field for dry corn with a measure He (the Holy Prophet) in fact forbade all such transactions. Qutaiba has narrated it with a slight variation of words.
Top