صحيح البخاری - نماز کسوف کا بیان - حدیث نمبر 1946
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَائِ قَالَ کَانَ رَجُلٌ يَقْرَأُ سُورَةَ الْکَهْفِ وَعِنْدَهُ فَرَسٌ مَرْبُوطٌ بِشَطَنَيْنِ فَتَغَشَّتْهُ سَحَابَةٌ فَجَعَلَتْ تَدُورُ وَتَدْنُو وَجَعَلَ فَرَسُهُ يَنْفِرُ مِنْهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ تِلْکَ السَّکِينَةُ تَنَزَّلَتْ لِلْقُرْآنِ
قرآن مجید پڑھنے کی برکت سے سکینت نازل ہونے کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، ابوخیثمہ، ابواسحاق، براء فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سورت کہف پڑھ رہا تھا اور اس کے پاس ایک گھوڑا دو رسیوں سے بندھا ہوا تھا کہ اچانک اس کو ایک بادل نے ڈھانپ لیا اور وہ بادل اس کے گرد گھومنے لگا اور اس کے قریب ہونے لگا اور اس کا گھوڑا بدکنے لگا پھر جب صبح ہوئی تو وہ نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ سکینہ ہے جو قرآن مجید کی وجہ سے نازل ہوا۔
Al-Bara reported that a person was reciting Surat al-Kahf and there was a horse tied with two ropes at his side, a cloud overshadowed him, and as it began to come nearer and nearer his horse began to take fright from it. He went and mentioned that to the Prophet ﷺ in the morning, and he (the Holy Prophet) said: That was tranquility which came down at the recitation of the Quran.
Top