صحيح البخاری - علم کا بیان - حدیث نمبر 4904
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنْ الْفِرَاشِ فَالْتَمَسْتُهُ فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَی بَطْنِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ وَهُمَا مَنْصُوبَتَانِ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَبِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوبَتِکَ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْکَ لَا أُحْصِي ثَنَائً عَلَيْکَ أَنْتَ کَمَا أَثْنَيْتَ عَلَی نَفْسِکَ
رکوع اور سجود میں کیا کہے ؟
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، عبداللہ بن عمر، محمد بن یحییٰ بن حبان، اعرج، ابی ہریرہ، ام المومنین سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک شب میں نے رسول اللہ ﷺ کو بستر پر نہ پایا تو تلاش کیا۔ میرا ہاتھ (اندھیرے میں) آپ کے تلووں کو لگا۔ آپ مسجد میں تھے اور (سجدہ میں) آپ کے پاؤں کھڑے تھے۔ آپ یہ دعا مانگ رہے تھے اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَبِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوبَتِکَ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْکَ لَا أُحْصِي ثَنَائً عَلَيْکَ أَنْتَ کَمَا أَثْنَيْتَ عَلَی نَفْسِکَ اے اللہ! میں آپ کی رضامندی کی پناہ چاہتا ہوں۔ آپ کی ناراضگی سے اور آپ کے درگزر کی پناہ چاہتا ہوں آپ کی سزا سے اور میں آپ ہی کی پناہ چاہتا ہوں آپ سے۔ میں آپ کی تعریف پوری نہیں کرسکتا۔ آپ ایسے ہی ہیں جیسے آپ نے خود اپنی تعریف فرمائی۔
Ibn Juraij reported: I asked Ata: What do you recite when you are in a state of bowing (in prayer)? He said: "Hallowed be Thou, and with Thy praise, there is no god but Thou." Son of Abd Mulaikah narrated to me on the authority of Aisha (who reported): I missed one night the Apostle of Allah ﷺ (from his bed). I thought that he might have gone to one of his other wives. I searched for him and then came back and (found him) in a state of bowing, or prostration, saying: Hallowed be Thou and with Thy praise; there is no god but Thou. I said: With my father mayest thou be ransomed and with my mother. I was thinking of (another) affair, whereas you are (occupied) in another one.
Top