Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (530 - 603)
Select Hadith
530
531
532
533
534
535
536
537
538
539
540
541
542
543
544
545
546
547
548
549
550
551
552
553
554
555
556
557
558
559
560
561
562
563
564
565
566
567
568
569
570
571
572
573
574
575
576
577
578
579
580
581
582
583
584
585
586
587
588
589
590
591
592
593
594
595
596
597
598
599
600
601
602
603
مشکوٰۃ المصابیح - نماز کا بیان - حدیث نمبر 6112
فاطمہ زہرا کی افضیلت
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت فاطمہ تمام عورتوں سے افضل ہیں یہاں تک حضرت مریم (علیہ السلام) حضرت خدیجہ اور حضرت عائشہ پر بھی ان کو خاص شخصیت حاصل ہے، چناچہ سیوطی نے یہی لکھا ہے رہی اس حدیث کی بات جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فاطمہ زہرا) حضرت مریم بن عمران (علیہ السلام) کے علاوہ باقی تمام عورتوں پر فضیلت رکھتی ہیں یا ایک وہ حدیث ہے کہ جس میں فرمایا گیا ہے کہ اس امت میں فاطمہ کا وہی مرتبہ ہے جو مریم (علیہ السلام) کو اپنی قوم میں حاصل ہے یعنی جس طرح حضرت مریم (علیہ السلام) اپنی قوم کی تمام عورتوں سے افضل ہیں اسی طرح اس امت کی تمام عورتوں میں سب سے افضل فاطمہ ہیں توروایتوں کا اختلاف شاید اس سبب سے نظر آتا ہے کہ حضرت فاطمہ کا رتبہ تدریجی طور پر بڑھتا رہا ہوگا اور اسی تدریج کے ساتھ ان کی افضلیت کی اطلاع اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی اور اس کے فرشتہ کے ذریعہ آنحضرت ﷺ کو ملتی رہی ہوگی جس کا اظہار مختلف احادیث کے ذریعہ ہوتا رہا اور پھر جب آخر میں حضرت فاطمہ کا رتبہ آخری درجہ تک بڑھ گیا تو بلا استثناء عالم کی تمام عورتوں پر ان کی افضلیت ثابت ہوگئی بعض علماء نے حضرت عائشہ کو حضرت فاطمہ سے افضل قرار دیا ہے اور دلیل میں یہ بات پیش کی ہے کہ جنت میں حضرت عائشہ تو آنحضرت ﷺ کے ساتھ ہوں گی جب کہ حضرت فاطمہ، حضرت علی کے ساتھ ہوں گی اور یہ ظاہر ہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کا درجہ اور محل حضرت علی کے درجہ اور محل سے اعلی و اشرف ہوگا۔ لیکن یہ دلیل ان حدیثوں کے سامنے بےمعنی ہوجاتی ہے جن میں بیان کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت فاطمہ کو خطاب کرکے فرمایا میں تم، علی، حسن اور حسین جنت میں ایک درجہ اور ایک ہی محل میں ہوں گے۔ حضرت عائشہ کی افضلیت کے قائلیں کی طرف سے ایک دلیل یہ بھی دیجاتی ہے کہ ان کو اجتہاد کا مقام حاصل تھا، مجتہد تسلیم کی جاتی تھیں اور خلفاء اربعہ کے زمانہ میں فتوی دیا کرتی تھیں سیوطی نے فتاوی میں لکھا ہے کہ! اس مسئلہ میں (فاطمہ افضل ہیں یا عائشہ) تین مسلک ہیں اور ان تینوں مسلکوں میں سب سے صحیح مسلک یہ ہے کہ فاطمہ عائشہ سے افضل ہیں۔ بعض حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ فاطمہ اور عائشہ دونوں کا رتبہ یکساں ہے جب کہ کچھ حضرات اس بارے میں خاموش رہنے ہی کو سب سے بہتر سمجھتے ہیں ان میں بعض حنفی اور بعض شافعی علماء خصوصیت سے اس طرف مائل ہیں حضرت امام مالک کے متعلق منقول ہے کہ جس ان سے پوچھا گیا کہ آپ حضرت فاطمہ کو افضل سمجھتے ہیں یا حضرت عائشہ کو؟ تو انہوں نے جواب دیا فاطمہ پیغمبر کے گوشت کا ٹکڑا ہیں اور میں رسول اللہ ﷺ کے گوشت کے ٹکڑے پر کسی کو فضیلت نہیں دیتا امام سبکی نے لکھا ہے کہ! ہمارے نزدیک اور ہمارے مسلک کے اعتبار سے جو بات زیادہ معتبر اور زیادہ صحیح ہے وہ یہ ہے کہ سب سے افضل حضرت فاطمہ ہیں، ان کے بعد ان کی والدہ ماجدہ حضرت خدیجہ اور ان کے بعد حضرت عائشہ صدیقہ ویسے حضرت خدیجہ اور حضرت عائشہ کے بارے میں بھی علماء کے اختلافی اقوال ہیں کہ بعض نے حضرت خدیجہ کو افضل کہا ہے اور بعض نے حضرت عائشہ کو بہرحال ان مذکورہ جلیل القدر خواتین اسلام کی الگ الگ حیثیتیں ہیں اور ان میں سے ہر ایک اس کی اپنی حیثیت وخصوصیت کے اعتبار سے فضیلت و برتری حاصل ہے، تاہم بعض حضرات نے کثرت ثواب کو افضلیت کی بنیاد بنایا ہے جس کا علماء کے ہاں اعتبار بھی ہے اور اس حیثیت سے حضرت فاطمہ چاہے سب سے افضل نہ ہوں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ شرف ذات پاگیزگی طینت اور تقدس جوہر کے اعتبار سے کوئی بھی حضرت فاطمہ، حضرت حسن، افضل و برتر نہیں ہوسکتا۔
Top