Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (530 - 603)
Select Hadith
530
531
532
533
534
535
536
537
538
539
540
541
542
543
544
545
546
547
548
549
550
551
552
553
554
555
556
557
558
559
560
561
562
563
564
565
566
567
568
569
570
571
572
573
574
575
576
577
578
579
580
581
582
583
584
585
586
587
588
589
590
591
592
593
594
595
596
597
598
599
600
601
602
603
مشکوٰۃ المصابیح - نماز کا بیان - حدیث نمبر 6094
وعن جابر قال : نظر رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى طلحة بن عبيد الله قال : من أحب أن ينظر إلى رجل يمشي على وجه الأرض وقد قضى نحبه فلينظر إلى هذا . وفي رواية : من سره أن ينظر إلى شهيد يمشي على وجه الأرض فلينظر إلى طلحة بن عبيد الله رواه الترمذي
حضرت طلحہ کی فضیلت
اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ نے طلحہ بن عبیداللہ کی طرف (محبت بھری نظروں سے) دیکھا اور فرمایا جس شخص کی خواہش ہو کہ اس انسان کو دیکھے جو زمین پر چلتا پھرتا ہے لیکن حقیقت میں وہ مردہ ہے تو اس کو چاہئے کہ وہ اس انسان (طلحہ) کو دیکھے۔ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص ایسے شہید کا دیدار کرنا چاہے جو زمین پر چلتا پھرتا ہے تو وہ طلحہ بن عبیداللہ کو دیکھے۔ (ترمذی)
تشریح
حقیقت میں وہ مردہ ہے یہ قضی نحبہ کا ترجمہ ہے۔ اصل میں تو نحب کے معنی ہیں منت ماننا، نذر کرنا، عہد کرنا۔ لیکن اس کے ایک معنی موت اور اجل کے بھی آتے ہیں چناچہ قرآن کریم کی اس آیت! (مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَه وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ ) 33۔ الاحزاب 23) من مفسرین نے قضی نحبہ کی تفسیر میں دونوں معنی مرادلئے ہیں۔ اس لحاظ سے اس حدیث میں بھی قضی نحبہ کو اگرچہ دونوں معنی پر محمول کیا جاسکتا ہے لیکن دوسرے معنی (موت کے مفہوم میں) مراد لینا زیادہ صحیح اور زیادہ موزوں ہے جیسا کہ دوسری روایت شہید یمشی علی وجہ الارض سے بھی ہے۔ بہرصورت اس ارشاد گرامی سے آنحضرت ﷺ کا مقصد لوگوں کو یہ بتانا تھا کہ طلحہ وہ شخص ہے جس نے اللہ کی راہ میں اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے سرفروشی اور فدا کاری کا جو عہد کیا تھا اس کو پورا کردیا اور میدان جنگ میں اس نے جان سپاری کے ذریعہ درحقیقت موت کا مزہ چکھ لیا یہ اور بات ہے کہ وہ ابھی زندہ نظر آتا ہے، یہ معلوم ہی ہے کہ جنگ احد کے دن حضرت طلحہ نے خود کو آنحضرت ﷺ کی ڈھال بنا لیا تھا اور اس کے نتیجہ میں ان کے جسم کو کوئی حصہ کوئی عضو زخمی ہونے سے نہیں بچا تھا۔ بعض حضرات نے لکھا ہے اس حدیث میں حضرت طلحہ کے تعلق سے جو کچھ فرمایا گیا اس میں درحقیقت اس اختیاری موت کی طرف اشارہ ہے جو اہل سلوک اور ارباب فناہ کو حاصل ہوتی ہے یا مردہ ہونے سے ذات باری تعالیٰ کی طرف انجذاب اور ذکر الہٰی اور مشاہدہ ملکوت میں پوری طرح مستغرق ہونے کے سبب عالم شہادت سے غائب ہونا ہے جو دراصل (اختیاری موت) کا نتیجہ ہوتا ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ آپ ﷺ نے مردہ کہہ کر اس طرف اشارہ کیا ہو کہ مال کار حضرت طلحہ کو شہادت کی موت اور حسن خاتمہ کی سعادت نصیب ہوگی۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ حضرت طلحہ جنگ جمل میں شہید ہوئے۔
Top