Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (530 - 603)
Select Hadith
530
531
532
533
534
535
536
537
538
539
540
541
542
543
544
545
546
547
548
549
550
551
552
553
554
555
556
557
558
559
560
561
562
563
564
565
566
567
568
569
570
571
572
573
574
575
576
577
578
579
580
581
582
583
584
585
586
587
588
589
590
591
592
593
594
595
596
597
598
599
600
601
602
603
مشکوٰۃ المصابیح - نماز کا بیان - حدیث نمبر 6052
وعن جابر قال : دعا رسول الله صلى الله عليه و سلم عليا يوم الطائف فانتجاه فقال الناس : لقد طال نجواه مع ابن عمه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما انتجيته ولكن الله انتجاه . رواه الترمذي
خاص فضیلت
اور حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ غزوہ طائف کے دن رسول اللہ ﷺ نے علی کو بلایا اور اس سے سرگوشی کرنے لگے (یعنی ایسا نظر آرہا تھا جیسے کسی خاص مسئلہ پر ان کے ساتھ چپکے چپکے باتیں کررہے ہیں اور جب ان باتوں کا سلسلہ کچھ دراز ہوگیا تو (منافقین نے یا صحابہ میں عام) لوگوں نے کہا اپنے چچا کے بیٹے کے ساتھ تو رسول اللہ نے بڑی دیر تک کانا پھوسی کی؟ رسول اللہ ﷺ نے (یہ سنا تو) فرمایا علی کے ساتھ میں نے سرگوشی نہیں کی بلکہ اللہ نے ان سے سرگوشی کی ہے۔ (ترمذی)
تشریح
بلکہ اللہ نے سرگوشی کی یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا تھا کہ بعض باتیں چپکے چپکے علی تک پہنچا دوں، اس لئے حکم الہٰی کی تعمیل میں میں نے ان کے ساتھ چپکے چپکے باتیں کی ہیں نہ کہ میں ان کے ساتھ وہ کانا پھوسی کررہا تھا جو آداب مجلس کے خلاف ہے اور چونکہ وہ سرگوشی اللہ کے حکم کی تعمیل میں تھی لہٰذا اس صورت میں گویا اللہ نے ان سے سرگوشی کی، مصداق کے اعتبار سے یہ جملہ ایسا ہی ہے جیسا ایک آیت قرآن کا یہ فقرہ ( وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى) 8۔ الانفال 17) اور آپ ﷺ نے خاک کی مٹھی نہیں پھینکی بلکہ وہ اللہ تعالیٰ نے پھینکی اس سلسلہ میں یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ حضرت علی ؓ سے آنحضرت ﷺ کی اس سرگوشی کا موضوع دراصل اس غزوہ کی بابت کچھ ایسے نقطے اور راز کی باتیں تھیں جن کا تعلق دین کے ضمن میں آنے والے دنیاوی انتظام و معاملات سے تھا اور جن کا برسر عام تذکرہ حکمت وپالیسی کے خلاف تھا یہ نہیں کہ آپ ﷺ نے منجانب اللہ نازل شدہ دین کی کوئی بات یا دینی امور سے متعلق کچھ احکام سب لوگوں سے چھپا کر حضرت علی کو دئیے خود حضرت علی نے اس طرح کے خیال کے مبنی برحقیقت ہونے کی تردید کی ہے چناچہ بخاری کی روایت میں ہے کہ جب کچھ لوگوں نے حضرت علی ؓ سے سوال کیا کہ آپ ﷺ کے پاس کوئی ایسی چیز (یعنی کوئی ایسا خدائی حکم و فرمان) ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں نہیں ہے! حضرت علی نے جواب دیا اس ذات کی قسم جس نے زمین سے دانہ اگایا اور ذی روح کو پیدا کیا، میرے پاس اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے جو قرآن میں موجود ہے ہاں کتاب اللہ کی وہ سمجھ مجھے حاصل ہے جو (حق تعالیٰ کے خصوصی فضل و کرم کے تحت) کسی کو حاصل ہوتی ہے اور یہ ایک صحیفہ میرے پاس ہے (جس میں وراثت ودیت وغیرہ کے کچھ احکام لکھے ہوئے ہیں )۔
Top