Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (530 - 603)
Select Hadith
530
531
532
533
534
535
536
537
538
539
540
541
542
543
544
545
546
547
548
549
550
551
552
553
554
555
556
557
558
559
560
561
562
563
564
565
566
567
568
569
570
571
572
573
574
575
576
577
578
579
580
581
582
583
584
585
586
587
588
589
590
591
592
593
594
595
596
597
598
599
600
601
602
603
مشکوٰۃ المصابیح - نماز کا بیان - حدیث نمبر 5873
کرامت کا اثبات
اہل حق (یعنی تمام اہل سنت والجماعت) کا اس امر پر اتفاق ہے کہ ولی سے کرامت کا ظاہر ہونا واقعی اور حقیقی چیز ہے۔ ولی اللہ اس نیک بندے کو کہتے ہیں جو حق تعالیٰ کی ذات وصفات کا بقدر طاقت بشری عرفان رکھتا ہو، طاعات (نیکی) کرنے اور منہیات (برائی) کے ترک پر قائم ودائم ہو، دنیاوی لذات و خواہشات میں غیر منہمک ہو اور اتباع سنت وتقویٰ میں بحسب تفاوت مراتب کامل ہو اولیاء اللہ سے کرامتوں کے ظہور و وقوع کا اثبات عقلا تو یوں محال نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی چیز مشکل اور بعید از امکان نہیں ہے، اس کی ذات جس طرح اپنے پیارے پیغمبروں کے ذریعہ معجزوں کا ظہور کرا سکتی ہے، اس طرح اپنے پیغمبر کے سچے تابعداروں اور نیکوکار مؤمنوں کے ہاتھ پر کرامتوں کا ظہور کر اسکتی ہے، جہاں تک نقلا اثبات کا تعلق ہے تو قرآن پاک اور احادیث رسول دونوں میں کرامت کا ثبوت صراحۃ مذکور ہے، پھر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بعد کے زمانہ کے اولیا اللہ سے صادر ہونے والی کرامتوں کی روایتیں جس تسلسل کے ساتھ منقول ہیں وہ حد تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں اور قدر مشترک میں تو تواتر معنی اس درجہ کا ہے کہ اگر صاف ذہن اور کھلے دل و دماغ سے دیکھا جائے تو اس بارے میں کسی کو شک وشبہ اور انکار کی مجال نہیں ہوسکتی، خصوصا بعض اکابر مشائخ طریقت جیسے حضرت سیدنا عبد القادر جیلانی (رح) کی کرامتیں نہ صرف یہ کہ اتنی زیادہ ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں بلکہ وہ اتنے تواتر کے ساتھ منقول ہیں کہ ان کا انکار کوئی عقل کا دشمن ہی کرسکتا ہے، ان کے زمانہ کے بعض مشائخ کا یہ قول منقول ہے کہ سیدنا عبد القادر جیلانی (رح) کی کرامتیں مروارید کی طرح تھیں کہ پے درپے صادر ہوتی تھیں کبھی خود ان کی ذات میں ظاہر ہوتیں اور کبھی ان کی ذات میں ظاہر ہوتیں۔ کرامت کا صدور اختیاری بھی ہوتا ہے اور غیر اختیاری بھی بعض حضرات نے یہ لکھا ہے ولی سے کوئی بھی کرامت اس کے قصد واختیار کے تحت صادر نہیں ہوتی بلکہ بلاقصد واختیار صادر ہوتی ہے انہی بعض حضرات کا قول یہ ہے کہ کرامت معجزہ کی جنس سے نہیں ہوتی، یعنی جو چیزیں معجزہ کے طور پر ظاہر ہوچکی ہیں جیسے تھوڑے سے کھانے کا بہت ہوجانا اور انگلیوں سے پانی کا ابل پڑنا وغیرہ وہ کرامت کے طور پر ظاہر نہیں ہوتی لیکن اس سلسلہ میں تحقیقی قول یہ ہے کہ کرامت کا قصد واختیار کے تحت بھی صادر ہونا ممکن ہے اور بلاقصد واختیار بھی۔ اسی طرح کا ظہور ان چیزوں کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے جو معجزہ کے طور پر ظاہر ہوچکی ہیں اور ان کے علاوہ دوسری صورتوں میں بھی۔
Top