Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (530 - 603)
Select Hadith
530
531
532
533
534
535
536
537
538
539
540
541
542
543
544
545
546
547
548
549
550
551
552
553
554
555
556
557
558
559
560
561
562
563
564
565
566
567
568
569
570
571
572
573
574
575
576
577
578
579
580
581
582
583
584
585
586
587
588
589
590
591
592
593
594
595
596
597
598
599
600
601
602
603
مشکوٰۃ المصابیح - نماز کا بیان - حدیث نمبر 5577
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما بين منكبي الكافر في النار مسيرة ثلاثة أيام للراكب المسرع . وفي رواية : ضرس الكافر مثل أحد وغلظ جلده مسيرة ثلاث . رواه مسلم وذكر حديث أبي هريرة : إذا اشتكت النار إلى ربها . في باب تعجيل الصلوات
دوزخیوں کے جسم :
اور حضرت ابوہریرۃ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا دوزخ میں کافر کے جسم کو اس قدر موٹا اور فربہ بنادیا جائے گا کہ اس کے دونوں مونڈھوں کا درمیانی فاصلہ تیز رو سوار کی تین دن کی مسافت کے برابر ہوگا۔ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ دوزخ میں کافر کا دانت احد پہاڑ کے برابر ہوگا اور اس کے جسم کی کھال تین دن کی مسافت کے برابر موٹی ہوگی۔ (مسلم) اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت اشتکت النار الی ربہا باب تعجیل الصلوۃ میں نقل کی جاچکی ہے۔
تشریح
اس حدیث میں اہل دوزخ کے جسم کے پھیلاؤ اور مٹاپے کا ذکر ہے جب کہ ایک روایت میں یہ آیا ہے کہ قیامت کے دن متکبرین کو میدان حشر میں اس حالت میں لایا جائے گا کہ ان کے جسم تو چیونٹیوں کے برابر ہوں گے اور ان کی صورتیں مردوں کی ہوں گی اور پھر انہیں ہانک کر قید خانہ میں لایا جائے گا۔ پس ان دونوں رویتوں میں تطبیق یہ ہے کہ متکبرین سے مراد مؤمن گناہ گار ہیں جب کہ مذکورہ بالا حدیث میں کفار کا ذکر کیا گیا ہے لیکن زیادہ درست یہ کہنا ہے کہ ان کو میدان حشر میں چیونٹیوں ہی کے جسم میں لایا جائے گا جہاں وہ لوگوں کے تلوؤں تلے خوب روندے جائیں گے اس کے بعد پھر ان کے بدن اپنی اصلی حالت میں آجائیں گے اور دوزخ میں ڈالے جائیں گے، دوزخ میں ان کے بدن دوبارہ غیر معمولی ساخت کے ہوجائیں گے اور ان کا مٹاپا اور پھیلاؤ اتنا بڑھ جائے گا جس کا ذکر حدیث میں کیا گیا ہے نیز ان کے بدن کو اس قدر موٹا اور فربہ اس لئے کیا جائے گا تاکہ انہیں زیادہ سے زیادہ عذاب ہوسکے۔
Top