Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (530 - 603)
Select Hadith
530
531
532
533
534
535
536
537
538
539
540
541
542
543
544
545
546
547
548
549
550
551
552
553
554
555
556
557
558
559
560
561
562
563
564
565
566
567
568
569
570
571
572
573
574
575
576
577
578
579
580
581
582
583
584
585
586
587
588
589
590
591
592
593
594
595
596
597
598
599
600
601
602
603
مشکوٰۃ المصابیح - نماز کا بیان - حدیث نمبر 5574
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يؤتى بأنعم أهل الدنيا من أهل النار يوم القيامة فيصبغ في النار صبغة ثم يقال : يا ابن آدم هل رأيت خيرا قط ؟ هل مر بك نعيم قط ؟ فيقول : لا والله يا رب ويؤتى بأشد الناس بؤسا في الدنيا من أهل الجنة فيصبغ صبغة في الجنة فيقال له : يا ابن آدم هل رأيت بؤسا قط ؟ وهل مر بك شدة قط . فيقول : لا والله يا رب ما مر بي بؤس قط ولا رأيت شدة قط . رواه مسلم
ایک دوزخی ایک جنتی :
اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن دوزخیوں میں ایک ایسے شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ عیش و آرام کی زندگی گزارتا تھا (اور اپنے اس عیش و آرام سے بدمست ہو کر ظلم وجور میں بہت بڑھا ہوا تھا) پھر اس کو دوزخ میں ایک غوطہ دیا جائے گا (یعنی دوزخ میں ڈبویا جائے گا جس طرح کپڑا رنگ میں ڈبویا جاتا ہے) اور کہا جائے گا کہ اے ابن آدم! کیا تو نے دنیا میں کبھی کوئی راحت و بھلائی دیکھی تھی اور کوئی عیش و آرام اٹھایا تھا؟ وہ دوزخی (دوزخ میں ڈالے جانے کے ڈر سے اس قدر سہم جائے گا کہ دنیا کے تمام نازونعم اور ان تمام آسائش و راحت کو فراموش کردے گا جو اس کو حاصل تھیں اور ایسا ظاہر کرے گا جیسے اس کو دنیا میں کوئی راحت ونعمت نصیب ہی نہیں ہوئی تھی چناچہ وہ کہے گا کہ نہیں میرے پروردگار اللہ کی قسم مجھے کوئی راحت ونعمت نصیب نہیں ہوئی تھی اس طرح جنتیوں میں سے ایک ایسے شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ غم والم اور مشقت وکلفت برداشت کرنے والا تھا، پھر اس کو جنت میں ایک غوطہ دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اے ابن آدم کیا تو نے دنیا میں کوئی غم اٹھایا تھا اور کسی مشقت وکلفت سے دوچار ہوا تھا؟ وہ جنتی جنت کی نعمتیں اور راحتیں دیکھ کر اپنے دنیا کے تمام رنج وغم اور کلفت ومشقت بھول جائے گا اور جواب دے گا کہ نہیں میرے پروردگار اللہ کی قسم میں نے دنیا میں کبھی کوئی رنج وغم نہیں دیکھا اور کوئی مشقت وکلفت نہیں اٹھائی۔ (مسلم)
تشریح
جنتی کو چونکہ نہایت درجہ کی خوشی حاصل ہوگی اس لئے وہ جواب میں طوالت اختیار کرے گا اس کے برخلاف دوزخی مختصر سا جواب دے کر خاموش ہوجائے گا۔
Top