Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (530 - 603)
Select Hadith
530
531
532
533
534
535
536
537
538
539
540
541
542
543
544
545
546
547
548
549
550
551
552
553
554
555
556
557
558
559
560
561
562
563
564
565
566
567
568
569
570
571
572
573
574
575
576
577
578
579
580
581
582
583
584
585
586
587
588
589
590
591
592
593
594
595
596
597
598
599
600
601
602
603
مشکوٰۃ المصابیح - نماز کا بیان - حدیث نمبر 5570
عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ناركم جزء من سبعين جزءا من نار جهنم قيل : يا رسول الله إن كانت لكافية قال : فضلت عليهن بتسعة وستين جزءا كلهن مثل حرها . متفق عليه . واللفظ للبخاري . وفي رواية مسلم : ناركم التي يوقد ابن آدم . وفيها : عليها و كلها بدل عليهن و كلهن
دوزخ کی آگ کی گرمی
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تمہاری (دنیا کی) آگ دوزخ کی آگ کے ستّر حصوں میں سے ایک حصہ ہے عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ! یہ تو دنیا کی آگ ہی (عذاب دینے کے لئے) کافی تھی (پھر اس سے بھی زیادہ حرارت وتپش رکھنے والی آگ پیدا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ ) آنحضرت ﷺ نے فرمایا دوزخ کی آگ کو یہاں (دنیا) کی آگ انہتر حصہ بڑھا دیا گیا ہے اور ان انہتر حصوں میں سے ہر ایک حصہ تمہاری (دنیا کی) آگ کے برابر ہے۔ اس روایت کو بخاری ومسلم نے نقل کیا ہے، لیکن (یہاں مذکورہ) الفاظ بخاری کے ہیں اور صحیح مسلم کی روایت یوں ہے کہ (آپ ﷺ نے فرمایا) تمہاری (دنیا کی) یہ آگ جس کو ابن آدم (انسان) بتلاتا ہے دوزخ کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے، نیز مسلم کی روایت میں علیہن اور کلہن کے بجائے علیہا اور کلہا کے الفاظ ہیں (یعنی بخاری کی روایت میں ہے
تشریح
دنیا کی آگ کا دوزخ کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی آگ جو درجہ حرارت رکھتی ہے دوزخ کی آگ اس سے ستر درجہ حرارت زیادہ گرم ہے لیکن ہوسکتا ہے کہ ستر کے عدد سے مراد دنیا کی آگ کا مقابلہ پر دوزخ کی آگ کی گرمی کی شدت و زیادتی کو بیان کرنا ہو نہ کہ یہ خاص عدد ہی مراد ہے گویا اصل مفہوم یہ ہوگا کہ دوزخ کی آگ تمہاری دنیا کی آگ کے مقابلہ پر بہت زیادہ درجہ حرارت رکھتی ہے۔ آنحضرت ﷺ سے جو سوال کیا گیا، اس کے جواب میں آپ ﷺ نے جو فرمایا وہ گویا از راہ تاکید اسی جملہ کی تکرار تھی جو آپ ﷺ نے شروع میں فرمایا تھا اور اس سے جواب کا حاصل یہ نکلا کہ بیشک کسی کو جلانے کے لئے یہ دنیا کی آگ ہی بہت ہے کہ اگر تم کسی انسان کو عذاب میں مبتلا کرنے کے لئے اس آگ میں ڈال دو تو وہ جل کر کوئلہ ہوجائے گا مگر دوزخ کی آگ جس عذاب الٰہی کے لئے تیار کی گئی ہے اس کا تقاضا ہے کہ اس کی حرارت و گرمی اس دنیا کی آگ کی حرارت و گرمی سے بہت زیادہ ہوتا کہ اللہ کا عذاب دنیا والوں کے عذاب سے ممتاز رہے اور دوزخ کی اس آگ میں جلنے والوں کو معلوم ہو کہ ان کے اللہ کا عذاب اتنا شدید اور اتنا سخت ہے کہ اگر دنیا میں کوئی شخص انہیں وہاں کی آگ میں جلاتا تو وہ عذاب اس عذاب الٰہی کے مقابلے پر ہیچ ہوتا حاصل یہ کہ دوزخ کی آگ دراصل عذاب الٰہی ہے جیسا کہ اس کا اضاف عذاب میں ذکر ہوتا ہے اس لئے اس کو دنیا کی بہ نسبت کہیں زیادہ درجہ حرارت رکھنا ہی چاہے۔
Top