Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (530 - 603)
Select Hadith
530
531
532
533
534
535
536
537
538
539
540
541
542
543
544
545
546
547
548
549
550
551
552
553
554
555
556
557
558
559
560
561
562
563
564
565
566
567
568
569
570
571
572
573
574
575
576
577
578
579
580
581
582
583
584
585
586
587
588
589
590
591
592
593
594
595
596
597
598
599
600
601
602
603
مشکوٰۃ المصابیح - نماز کا بیان - حدیث نمبر 5545
وعن أسماء بنت أبي بكر قالت : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم وذكر له سدرة المنتهى قال : يسير الراكب في ظل الفنن منها مائة سنة أو يستظل بظلها مائة راكب - شك الراوي - فيها فراش الذهب كأن ثمرها القلال رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب
سدرۃ المنتہی کا ذکر
اور حضرت اسماء بنت ابوبکر ؓ کہتی ہیں کہ اس وقت جب کہ رسول کریم ﷺ کے سامنے سدرۃ المنتہی کا ذکر کیا گیا، میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ( سدرۃ المنتہی ایسا درخت ہے کہ) کوئی ( تیز رفتار) سوار اس کی شاخوں کے سائے میں سو سال تک چلتا رہے یا یہ فرمایا کہ اس کے سائے میں بیک وقت سو سوار دم لے سکیں، اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں ہیں گویا اس کے پھل مٹکوں کے برابر ہیں۔ اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
سدرۃ المنتہی کے معنی ہیں بیری کا وہ درخت جس پر انتہاء ہے۔ اس درخت کو سدرۃ المنتہی اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ جنت کے اس انتہائی کنارے پر واقع ہے جس کے پرے کسی کو کچھ علم نہیں کیا ہے، اس کے آگے کسی فرشتے تک کو جانے کا حکم نہیں ہے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو آخری رسائی بھی یہیں تک ہے، اس کے آگے وہ بھی نہیں جاسکتے صرف آنحضرت ﷺ معراج کی رات میں اس درخت سے آگے گئے ہیں۔ ایک روایت کے مطابق یہ درخت چھٹے آسمان پر ہے لیکن مشہور روایت یہ ہے کہ ساتویں آسمان پر۔ اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں ہیں۔ سے شاید یہ مراد ہے کہ اس درخت پر جو نوارنی فرشتے ہیں ان کے پر اس طرح چمکتے اور جھلملاتے ہیں جیسے اس کی شاخوں پر سونے کی چمکدار ٹڈیاں ادھر ادھر پھدک رہی ہوں یا یہ کہ اس درخت سے جو انوار اٹھتے ہیں اور شاخوں پر ایک خاص قسم کی روشنی پھوٹتی رہتی ہے اس کو سونے کی ٹڈیاں سے تعبیر فرمایا۔ واضح رہے کہ آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں ہیں۔ دراصل اس آیت کریمہ (اِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشٰى) 53۔ النجم 16) ( جب اس سدرۃ المنتہی کو ڈھانپ رکھا جو کچھ کہ ڈھانپتا ہے) کی تفسیر ہے، چناچہ بیضاوی نے اس آیت کے تحت لکھا ہے کہ فرشتوں کی ایک بہت بڑی جماعت جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف ہے اس درخت کو ڈھانپے رہتی ہے۔
Top