Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (530 - 603)
Select Hadith
530
531
532
533
534
535
536
537
538
539
540
541
542
543
544
545
546
547
548
549
550
551
552
553
554
555
556
557
558
559
560
561
562
563
564
565
566
567
568
569
570
571
572
573
574
575
576
577
578
579
580
581
582
583
584
585
586
587
588
589
590
591
592
593
594
595
596
597
598
599
600
601
602
603
مشکوٰۃ المصابیح - نماز کا بیان - حدیث نمبر 5526
وعن أبي هريرة قا ل : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أول زمرة يدخلون الجنة على صورة القمر ليلة البدر ثم الذين يلونهم كأشد كوكب دري في السماء إضاءة قلوبهم على قلب رجل واحد لا اختلاف بينهم ولا تباغض لكل امرئ منهم زوجتان من الحور العين يرى مخ سوقهن من وراء العظم واللحم من الحسن يسبحون الله بكرة وعشيا لا يسقمون ولا يبولون ولا يتغوطون ولا يتفلون ولا يتمخطون آنيتهم الذهب والفضة وأمشاطهم الذهب ووقود مجامرهم الألوة ورشحهم المسك على خلق رجل واحد على صورة أبيهم آدم ستون ذراعا في السماء . رواه مسلم
جنت کی نعمتوں کا ذکر
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو لوگ جنت میں سب سے پہلے داخل ہوں گے ( یعنی انبیاء علیہم السلام) وہ چودہویں رات کے چاند کی طرح روشن ومنور ہونگے اور ان کے بعد جو لوگ داخل ہوں گے (یعنی علماء، اولیاء، شہدا اور صلحاء) وہ اس ستارے کی مانند روشن وچمکدار ہوں گے جو آسمان پر بہت تیز چمکتا ہے ( اور چاند وسورج سے کم لیکن اور ستاروں سے زیادہ روشن ہوتا ہے) تمام جنتیوں کے دل ایک شخص کے دل کی مانند ہوں گے ( یعنی ان کے درمیان اس طرح باہمی ربط و اتفاق ہوگا کہ وہ سب ایک دل اور ایک جان ہوں گے) نہ تو ان میں کوئی باہمی اختلاف ہوگا اور نہ وہ ایک دوسرے سے کوئی بغض و عداوت رکھیں گے۔ ان میں سے ہر ایک شخص کے لئے حو رعین میں سے دو دو بیویاں ہوں گی ( جو اتنی زیادہ حسین و جمیل اور صاف شفاف ہوں گی گہ) ان کی پنڈلیوں کی ہڈی کا گودا ہڈی اور گوشت کے باہر سے نظر آئے گا۔ تمام جنتی صبح وشام ( یعنی ہر وقت) اللہ تعالیٰ کو یاد کیا کریں گے وہ نہ تو بیمار ہوں گے، نہ پیشاب کریں گے، نہ پاخانہ پھریں گے، نہ تھوگیں گے اور نہ ( رینٹھ سنکیں گے، ان کے برتن سونے چاندی کے ہوں گے، ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی، ان کی انگیٹھیوں کا ایندھن اگر ہوگا۔ ان کا پسینہ مشک کی طرح خوشبودار ہوگا اور سارے جنتی ایک شخص کی سی عادت و سیرت کے ہوں گے ( یعنی سب کے سب یکساں طور پر خوش خلق وملنسار اور ایک دوسرے سے گہرا ربط وتعلق رکھنے والے ہوں گے) نیز وہ سب شکل و صورت میں باپ آدم (علیہ السلام) کی طرح ہوں گے اور ساٹھ گز اونچا قد رکھتے ہوں گے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
حور اصل میں حوراء، کی جمع ہے اور حوراء اس حسین و جمیل عورت کو کہتے ہیں جس کی آنکھ کی سفیدی وسیاہی بہت زیادہ سفید و سیاہ ہو، عین عنا! کی جمع ہے جس کے معنی بڑی بڑی آنکھوں والی ہے آگے دوسری فصل کے آخر میں ایک روایت آئے گی جس میں یہ فرمایا گیا ہے کہ سب سے ادنیٰ درجہ کا جنتی وہ ہوگا۔ جس کے بہتر ٧٢ بیویاں ہوں گی، جب کہ یہاں دو بیویوں کا ذکر ہے؟ لہٰذا ان دونوں روایتوں کے درمیان مطابقت پیدا کرنے کے لئے کہا جائے گا کہ یہاں حدیث میں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ حور عین میں سے دو بیویاں ایسی ہونگی جن کا حسن و جمال سب سے زیادہ ہوگا یہاں تک کہ ان کی پنڈلیوں کی ہڈیوں کا گودا باہر سے نظر آئے گا، ظاہر ہے کہ یہ بات اس کے منافی نہیں ہے کہ ہر جنتی کو اس نوعیت کی دو بیویوں کے علاوہ اور بہت سی بیویاں بھی ملیں۔ ان کی انگیٹھیوں کا ایندھن اگر، ہوگا۔ کا مطلب یہ ہے کہ یہاں دنیا میں تو انگیٹھیوں کا ایندھن کوئلہ وغیرہ ہوتا ہے اور یہاں خوشبو حاصل کرنے کے لئے اگر چلایا جاتا ہے لیکن جنت میں انگیٹھیوں کا ایندھن ہی اگر، ہوگا۔ واضح رہے کہ وقود ( واؤ کے پیش کے ساتھ) کے معنی ہیں وہ ایندھن ( یعنی لکڑیاں وغیرہ) جس سے آگ جلائی جائے محامیر اصل میں محمر کے جمع ہے جس کے معنی ہیں وہ چیز جس میں آگ سلگانے کے لئے آگ رکھی جائے یعنی انگیٹھی یا عود سوز، یوں تو یہ لفظ میم کے زیر کے ساتھ ہے لیکن میم کے زبر کے ساتھ بھی منقول ہے۔ الوۃ ( الف کے زبر اور پیش کے ساتھ) آگر کی لکڑی کو کہتے ہیں جس کو دھونی دینے کے لئے جلایا یا سلگایا جاتا ہے۔ علی خلق رجل میں لفظ خلق خ کے پیش کے ساتھ ہے اور ترجمہ میں اسی کا اعبتار کیا گیا ہے۔ اس صورت میں علی صورۃ ابیہم ایک علیحدہ جملہ ہوگا جس کا مقصد جنتیوں کی سیرت کو بیان کرنے کے بعد ان کی شکل و صورت کو بیان کرنا ہے، لیکن بعض روایتوں میں یہ لفظ خ کے زبر کے ساتھ منقول ہے، جس کا بامطلب ترجمہ یہ ہوگا کہ وہ سب ( جنتی لوگ) ایک شخص کی سی شکل و صورت رکھیں گے، حسن و خوبصورتی میں یکساں ہوں گے اور ایک ہی عمر والے ہوں گے، یعنی سب کے سب تیس تیس یا تینتیس تینتیس سال کی عمر کے نظر آئیں گے، اس صورت میں کہا جائے گا کہ علی صورت ابیھم کا جملہ اپنے پہلے جملہ علی خلق رجل واحد کی وضاحت وبیان کے لئے ہے یہ بات ذہن میں رہے کہ پیش والی روایت بھی صحیح ہے اور زبر والی روایت بھی۔
Top