Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (530 - 603)
Select Hadith
530
531
532
533
534
535
536
537
538
539
540
541
542
543
544
545
546
547
548
549
550
551
552
553
554
555
556
557
558
559
560
561
562
563
564
565
566
567
568
569
570
571
572
573
574
575
576
577
578
579
580
581
582
583
584
585
586
587
588
589
590
591
592
593
594
595
596
597
598
599
600
601
602
603
مشکوٰۃ المصابیح - نماز کا بیان - حدیث نمبر 524
عَنْ عَآئِشَۃَرَضِیَ اللّٰہُ عَنْھَا قَالَتْ جَآءَ تْ فَاطِمَۃُ بِنْتُ اَبِیْ حُبَےْشٍ اِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَتْ ےَارَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنِّیْ امْرَاَۃٌ اُسْتَحَاضُ فَلَا اَطْھُرُ اَفَاَدَعُ الصَّلٰوۃَ فَقَالَ لَآ اِنَّمَا ذَالِکِ عِرْقٌ وَّلَےْسَ بِحَےْضٍ فَاِذَا اَقْبَلَتْ حَےْضَتُکِ فَدَعِی الصَّلٰوۃَ وَاِذَا اَدْبَرَتْ فَاغْسِلِیْ عَنْکِ الدَّمَ ثُمَّ صَلِّیْ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
مستحاضہ کا بیان
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ راوی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! میں ایک ایسی عورت ہوں جسے برابر (استخاضہ کا) خون آتا رہتا ہے۔ چناچہ میں کسی وقت پاک نہیں رہتی تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہیں! یہ تو ایک رگ کا خون ہے، حیض کا خون نہیں ہے لہٰذا جب تمہیں حیض آنے لگے تو تم نماز چھوڑ دو اور جب حیض ختم ہوجائے تو جسم سے خون کو دھو ڈالو (اور نہا کر) نماز پڑھ لو۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
تشریح
اس مسئلے میں کہ اگر کوئی عورت مستحاضہ ہوجائے اور وہ ہر وقت استخاضہ کے خون سے ناپاک رہے تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ اگر وہ ایسی عورت ہو جو معتادہ ہو یعنی اس کے حیض کے ایام مقرر ہوں مثلاً اسے ہر ماہ پانچ روز یا چھ روز خون آتا تھا تو جب وہ مستحاضہ ہوجائے تو اسے چاہئے کہ ان دنوں کو جن میں حیض کا خون آتا تھا ایام حیض قرار دے اور ان دنوں میں نماز وغیرہ چھوڑ دے اور جب وہ دن پورے ہوجائیں تو خون کو دھو کر نہائے اور نماز وغیرہ شروع کر دے۔ اور اگر وہ مبتد یہ ہو یعنی ایسی عورت ہو کہ پہلا ہی حیض آنے کے بعد وہ مستحاضہ ہوگئی جس کے نتیجہ میں استخاضہ کا خون برابر جاری ہوگیا تو اسے چاہئے کہ وہ حیض کی انتہائی مدت یعنی دس دن کو ایام حیض قرار دے کر ان دنوں میں نماز وغیرہ چھوڑ دے اور بعد میں نہا دھو کر نماز وغیرہ شروع کر دے۔ اس صورت میں دوسرے ائمہ کے نزدیک عمل تمیز پر ہوگا یعنی اگر خون سیاہ رنگ کا ہو تو اسے حیض کا خون قرار دیا جائے گا اور اگر سیاہ رنگ کا نہ ہو تو وہ استحاضہ کا خون کہلائے گا جیسے کہ آگے والی حدیث سے بھی یہی بات معلوم ہوتی ہے۔ مگر حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) اس حدیث کے بارے میں جو آگے آرہی ہے اور جو حضرت عروہ ؓ سے مروی ہے۔ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث دو طرق سے روایت کی گئی ہے ایک تو ان میں سے مرسل ہے اور دوسری مضطرب اور یہ عجیب بات ہے کہ خون کے رنگ میں امتیاز کی بات صرف عروہ کی روایت ہی میں مذکور ہے جس کا حال معلوم ہوچکا کہ ایک طریق سے تو وہ مرسل ہے اور دوسرے طریقے سے مضطرب لہٰذا اس حدیث پر کسی مسلک کی بنیاد رکھنا گویا اس مسلک کو کمزور کرنا ہے۔ اور یہ حدیث جو اوپر گزری جس میں دنوں کا اعتبار ہے اور جو ہماری دلیل ہے صحیح ہے لہٰذا اس حدیث پر عمل کرنا اولیٰ ہے اور بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ فاطمہ بنت حبیش ؓ جنہوں نے بارگاہ نبوت میں حاضر ہو کر اپنے بارے میں حکم دریافت کیا تھا معتادہ تھیں۔ حضرت امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ مستحاضہ کو چاہئے کہ وہ ہر فرض نماز کے لئے اپنی شرم گاہ دھو لیا کرے۔ اور حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ جب نماز کا وقت آئے جب ہی اپنی شرم گاہ دھو لے پھر نہ دھوئے اور لنگوٹا باندھ کر جلدی جلدی وضو کرلے اس کے بعد جو خون جاری رہے گا اس میں وہ معذور ہوگی لہٰذا آخر وقت تک وہ جو چاہے پڑھے۔
Top