Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (530 - 603)
Select Hadith
530
531
532
533
534
535
536
537
538
539
540
541
542
543
544
545
546
547
548
549
550
551
552
553
554
555
556
557
558
559
560
561
562
563
564
565
566
567
568
569
570
571
572
573
574
575
576
577
578
579
580
581
582
583
584
585
586
587
588
589
590
591
592
593
594
595
596
597
598
599
600
601
602
603
مشکوٰۃ المصابیح - نماز کا بیان - حدیث نمبر 512
عَنْ اَنَسٍ قَالَ اِنَّ الْےَھُوْدَ کَانُوْا اِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَۃُ فِےْھِمْ لَمْ ےُؤَاکِلُوْھَا وَلَمْ ےُجَامِعُوْھُنَّ فِی الْبُےُوْتِ فَسَأَلَ اَصْحَابُ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم النَّبِیَّ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَےَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِےْضِ اَلْاٰےَۃَ(البقرہ٢: ٢٢٢) فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِصْنَعُوْا کُلَّ شَےْئٍ اِلَّا النِّکَاحَ فَبَلَغَ ذَالِکَ الْےَھُوْدَ فَقَالُوْا مَا ےُرِےْدُ ھٰذَا الرَّجُلُ اَنْ ےَّدَعَ مِنْ اَمْرِنَا شَےْئًا اِلَّا خَالَفَنَا فِےْہِ فَجَآءَ اُسَےْدُ بْنُ حُضَےْرٍوَّعَبَّادُ ابْنُ بِشْرٍ فَقَالَا ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّ الْےَھُوْدَ یَقُوْلُ کَذَا وَکَذَااَفَلَا نُجَامِعُھُنَّ فَتَغَےَّرَ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم حَتّٰی ظَنَنَّا اَنْ قَدْ وَجَدَ عَلَےْھِمَا فَخَرَجَا فَاسْتَقْبَلَتْھُمَا ھَدِےَّۃٌ مِّنْ لَّبَنٍ اِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَاَرْسَلَ فِیْ اٰثَارِھِمَا فَسَقَاھُمَا فَعَرَفَا اَنَّہ، لَمْ ےَجِدْ عَلَےْھِمَا۔ (صحیح مسلم)
حیض کا بیان
حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ یہود میں سے جو کوئی عورت ایام سے ہوجاتی تو وہ لوگ نہ صرف یہ کہ اس کے ساتھ کھاتے پیتے نہ تھے بلکہ گھروں میں سونا بیٹھنا تک چھوڑ دیتے تھے چناچہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ ﷺ سے اس کے بارے میں حکم پوچھا (کہ حائضہ عورتوں کے بارے میں یہودیوں کا تو یہ عمل ہے لیکن ہم کیا کریں؟ ) جبھی اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ( وَيَسْ َ لُوْنَكَ عَنِ الْمَحِيْض) 2۔ البقرۃ 222) (یعنی یہ لوگ آپ ﷺ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں الخ نازل فرمائی (آیت کے نازل ہونے کے بعد) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ) تم اپنی عورتوں کے ساتھ جب کہ وہ حائضہ ہوں) سوائے صحبت کے جو چاہے کیا کرو جب یہ خبر یہودیوں کو پہنچی تو انہوں نے کہا یہ آدمی یعنی محمد ﷺ ہمارے جس دینی امر کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اس میں ہماری مخالفت ضرور کرتے ہیں۔ (یہود کی زبانی یہ سن کردو صحابہ کرام) حضرت اسید ابن حضیر اور حضرت عباد ابن بشر ؓ (دربار رسالت میں) حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہودی ایسا ایسا کہہ رہے ہیں (یعنی انہوں نے یہودیوں کا کلام نقل کیا اور پھر یہ کہا کہ) اگر اجازت ہو (یہودیوں کی موافقت کے لئے) ہم اپنی عورتوں کے پاس (ایام حیض) میں رہنا سہنا چھوڑ دیں۔ (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کا رنگ متغیر ہوگیا اور ہمیں یہ گمان ہوگیا کہ آپ ﷺ ان دونوں پر خفا ہوگئے ہیں۔ چناچہ وہ دونوں بھی نکل کر چل دئیے۔ ان کے جاتے ہی رسول اللہ ﷺ کے پاس کہیں سے تحفہ میں دودھ آگیا، آپ ﷺ نے ان دونوں کے پیچھے (کسی آدمی کو بلانے کے لئے) بھیجا (جب وہ آگئے تو) آپ ﷺ نے انہیں وہ دودھ پلا دیا (تاکہ انہیں رسول اللہ ﷺ کے لطف و کرم کا احساس ہوجائے چناچہ دودھ پینے کے بعد انہوں نے جانا کہ رسول اللہ ﷺ ہم سے ناراض نہیں ہیں۔ (صحیح مسلم)
تشریح
پوری آیت یہ ہے ( وَيَسْ َ لُوْنَكَ عَنِ الْمَحِيْضِ قُلْ ھُوَ اَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَا ءَ فِي الْمَحِيْضِ وَلَا تَقْرَبُوْھُنَّ حَتّٰى يَ طْهُرْنَ ) 2۔ البقرۃ 222) اور (اے محمد ﷺ صحابہ کرام حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں سو آپ ( صلی اللہ علیہ و سلم) ان سے کہہ دیجئے کہ وہ تو نجاست ہے لہٰذا ایام حیض میں عورتوں سے کنارہ کش رہو اور جب تم وہ پاک نہ ہوجائیں ان سے مقاربت نہ کرو۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایام حیض میں عورتوں سے کنارہ کشی اختیار کرنے اور ان سے مقاربت نہ کرنے کا حکم دیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنی بیویوں سے حیض کی حالت میں جماع نہ کرو، اس کے علاہ تمام چیزیں جائز ہیں۔ یعنی ان کے ساتھ کھانا، پینا، گھروں میں رہنا سہنا، لیٹنا، بیٹھنا یہاں تک کہ عورت کے ناف کے اوپر کے حصے سے اپنا بدن ملانا یا ہاتھ لگانا یہ سب چیزیں جائز ہیں۔ لہٰذا اس آیت سے معلوم ہوا کہ ایام حیض میں اگر کوئی آدمی جماع کرے گا تو وہ آدمی گنہ گار ہوگا کیونکہ یہ حرام ہے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی آدمی اپنی عورت سے ایام حیض میں یہ سمجھ کر جماع کرے کے یہ حلال اور جائز ہے تو وہ کافر ہوجائے گا کیونکہ اس کا حرام ہونا قرآن سے ثابت ہوتا ہے، (دونوں صحابہ کرام نے یہود کی باتیں سن کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جو معروضہ پیش کیا تھا اس سے یہ نتیجہ اخذ نہ کرلیجئے کہ اللہ نخواستہ ان کے ذہن میں اس حکم کی کوئی اہمیت نہ تھی یا یہ کہ ایک اسلامی حکم کے مقابلے میں یہودیوں کی بات کا انہیں زیادہ خیال تھا بلکہ ان کا مطلب تو صرف یہ تھا کہ آپ ﷺ اجازت دیں تو ہم عورتوں کے ساتھ ایام حیض میں اٹھنا بیٹھنا ترک کردیں اور ان کے ساتھ کھانا پینا چھوڑ دیں، تاکہ یہود جو طعن کرتے ہیں وہ نہ کریں اور ہم آپس میں الفت و یک جہتی کے ساتھ رہا کریں۔
Top