Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (530 - 603)
Select Hadith
530
531
532
533
534
535
536
537
538
539
540
541
542
543
544
545
546
547
548
549
550
551
552
553
554
555
556
557
558
559
560
561
562
563
564
565
566
567
568
569
570
571
572
573
574
575
576
577
578
579
580
581
582
583
584
585
586
587
588
589
590
591
592
593
594
595
596
597
598
599
600
601
602
603
مشکوٰۃ المصابیح - نماز کا بیان - حدیث نمبر 3309
لعان کا بیان
لعان کے معنی و تعریف لعان اور ملاعنہ کے معنی ہیں ایک دوسرے پر لعنت کرنا، شرعی اصطلاح میں لعان اس کو کہتے ہیں کہ جب شوہر اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے یا جو بچہ پیدا ہو اس کے بارے میں یہ کہے کہ یہ میرا نہیں نہ معلوم کس کا ہے اور بیوی اس سے انکار کرے اور کہے کہ تم مجھ پر تہمت لگا رہے ہو پھر وہ قاضی اور شرعی حاکم کے پاس فریاد کرے قاضی شوہر کو بلا کر اس الزام کو ثابت کرنے کے لئے کہے چناچہ اگر شوہر گواہوں کے ذریعہ ثابت کر دے تو قاضی اس کی بیوی پر زنا کی حد جاری کرے اور اگر شوہر چار گواہوں کے ذریعہ الزام ثابت نہ کرسکے تو پھر قاضی پہلے شوہر کو اس طرح کہلائے کہ میں اللہ کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ میں نے جو زنا کی نسبت اس کی طرف کی ہے اس میں سچا ہوں عورت کی طرف اشارہ کر کے چار دفعہ شوہر اسی طرح کہے پھر پانچویں دفعہ مرد کی طرف اشارہ کر کے یوں کہے کہ اس مرد نے میری طرف جو زنا کی نسبت کی ہے اگر اس میں یہ سچا ہے تو مجھ پر اللہ کا غضب ٹوٹے۔ جب دونوں اس طرح ملاعنت کریں تو حاکم دونوں میں جدائی کرا دے گا اور ایک طلاق بائن پڑھ جائے گی اور وہ عورت اس مرد کے لئے ہمیشہ کے لئے حرام ہوجائے گی ہاں اگر اس کے بعد مرد خود اپنے کو جھٹلائے یعنی یہ اقرار کرلے کہ میں نے عورت پر جھوٹی تہمت لگائی تھی تو اس صورت میں اس پر حد تہمت جاری کی جائے گی اور عورت سے پھر نکاح کرنا اس کے لئے درست ہوجائے گا لیکن حضرت امام ابویوسف یہ فرماتے ہیں کہ اگر مرد خود اپنے کو جھٹلائے تب بھی عورت اس کے لئے ہمیشہ کو حرام رہے گی۔
Top