مشکوٰۃ المصابیح - آداب سفر کا بیان - حدیث نمبر 3833
وعنه قال حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثين رأيت أحدهما وأنا أنتظر الآخر حدثنا إن الأمانة نزلت في جذر قلوب الرجال ثم علموا من القرآن ثم علموا من السنة . وحدثنا عن رفعها قال ينام الرجل النومة فتقبض الأمانة من قلبه أثرها مثل أثر الوكت ثم ينام النومة قتقبض فيبقى أثرها مثل أثر المجل كجمر دحرجته على رجلك فنفط فتراه منتبرا وليس فيه شيء ويصبح الناس يتبايعون ولا يكاد أحد يؤدي الأمانة فيقال إن في بني فلان رجلا أمينا ويقال للرجل ما أعقله وما أظرفه وما أجلده وما في قلبه مثقال حبة من خردل من إيمان . متفق عليه . ( متفق عليه )
صحابہ کے نزدیک سواری کے جانوروں کی دیکھ بھال کی اہمیت
اور حضرت انس کہتے ہیں کہ جب ہم (دوران سفر یا سفر کے بعد) کسی منزل اترتے تو اس وقت تک نفل نہ پڑھتے تھے جب کہ جانوروں پر سے سامان نہ کھول لیا جاتا۔ (ابو داؤد)

تشریح
سبحہ اور تسبیح کا اطلاق اکثر نفل نماز پر ہوتا ہے لیکن بعض حضرات کہتے ہیں کہ یہاں نماز چاشت ہی مراد ہے کہ اس زمانے میں عام طور پر منزلوں پر اترنے کا وقت یہی چاشت کا وقت ہوتا ہے تھا۔ بہرحال حدیث کا مطلب یہ بتانا ہے کہ باوجودیکہ صحابہ نماز کا بہت زیادہ اہتمام و خیال رکھتے تھے لیکن وہ اپنے جانوروں کی دیکھ بھال کے اہتمام کو بھی پہلے ملحوظ رکھتے تھے۔
Top