مشکوٰۃ المصابیح - رحمت باری تعالیٰ کی وسعت کا بیان - حدیث نمبر 2399
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قال رجل لم يعمل خيرا قط لأهله وفي رواية أسرف رجل على نفسه فلما حضره الموت أوصى بنيه إذا مات فحرقوه ثم اذروا نصفه في البر ونصفه في البحر فو الله لئن قدر الله عليه ليعذبنه عذابا لا يعذبه أحدا من العالمين فلما مات فعلوا ما أمرهم فأمر الله البحر فجمع ما فيه وأمر البر فجمع ما فيه ثم قال له : لم فعلت هذا ؟ قال : من خشيتك يا رب وأنت أعلم فغفر له
نماز میں قراءت کا بیان
کتنی رکعتوں میں قرأت فرض ہے نماز میں قرأت یعنی قرآن کریم پڑھنا تمام علماء کے نزدیک متفقہ طور پر فرض ہے البتہ اس میں اختلاف ہے کہ کتنی رکعتوں میں پڑھنا فرض ہے؟ چناچہ حضرت امام شافعی (رح) کے نزدیک پوری نماز میں قرأت فرض ہے۔ حضرت امام مالک (رح) کے ہاں للا کثر حکم الکل (اکثر کل کے حکم میں ہے) کے کلیہ کے مطابق تین رکعت میں فرض ہے۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے مسلک کے مطابق در رکعتوں میں قرأت فرض ہے۔ حضرت امام احمد بن حنبل (رح) کا مسلک قول مشہور ہے کے مطابق امام شافعی (رح) کے مسلک کے موافق ہے۔ حضرت حسن بصری اور حضرت زفر رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما کے نزدیک صرف ایک رکعت میں قرأت فرض ہے۔
Top