Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (3718 - 3808)
Select Hadith
3718
3719
3720
3721
3722
3723
3724
3725
3726
3727
3728
3729
3730
3731
3732
3733
3734
3735
3736
3737
3738
3739
3740
3741
3742
3743
3744
3745
3746
3747
3748
3749
3750
3751
3752
3753
3754
3755
3756
3757
3758
3759
3760
3761
3762
3763
3764
3765
3766
3767
3768
3769
3770
3771
3772
3773
3774
3775
3776
3777
3778
3779
3780
3781
3782
3783
3784
3785
3786
3787
3788
3789
3790
3791
3792
3793
3794
3795
3796
3797
3798
3799
3800
3801
3802
3803
3804
3805
3806
3807
3808
مشکوٰۃ المصابیح - جہاد کا بیان - حدیث نمبر 3753
غسل میت کا طریقہ
میت کو نہلانے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے مردہ کا استنجا کرایا جائے لیکن رانوں اور استنجے کی جگہ غسل دینے والا اپنے ہاتھ نہ لگائے اور نہ اس پر نگاہ ڈالے بلکہ اپنے ہاتھ میں کوئی کپڑا لپیٹ لے اور جو کپڑا ناف سے زانو تک پڑا ہے اس کے اندر اندر دھلائے۔ پھر اسے وضو کرایا جائے لیکن نہ تو کلی کرائی جائے اور نہ ناک میں پانی ڈالا جائے اور نہ گٹے تک ہاتھ دھلائے جائیں۔ بلکہ منہ دھلایا جائے پھر ہاتھ کہنی سمیت، پھر سر کا مسح، پھر دونوں پیر اور اگر تین دفعہ روئی تر کر کے دانتوں اور مسوڑھوں پر اور ناک کے دونوں سوراخوں میں پھیر دی جائے تو بھی جائز ہے۔ ہاں اگر میت نہانے کی حاجت میں یا حیض و نفاس میں مرجائے تو اس طرح سے منہ اور ناک میں پانی پہنچانا ضروری ہے۔ میت کی ناک، منہ اور کانوں میں روئی بھر دی جائے تاکہ وضو کراتے اور نہلاتے وقت پانی اندر نہ جائے۔ جب وضو کرا دیا جائے تو سر اور داڑھی کو خطمی (گل خیرو) سے یا اور کسی چیز سے جیسے بیسن، کھلی اور یا صابون وغیرہ سے مل کر دھویا جائے پھر میت کو بائیں کروٹ لٹا کر بیری کے پتے یا اشنان ڈال کر پکایا ہو پانی نیم گرم تین دفعہ سر سے پیر تک ڈالا جائے یہاں تک کہ پانی اس کروٹ تک پہنچ جائے تو تختے سے لگی ہوئی ہے۔ پھر دائیں کروٹ لٹا کر اسی طرح سر سے پیر تک تین دفعہ پانی ڈالا جائے یہاں تک کہ پانی اس کروٹ تک پہنچ جائے جو تختے سے لگی ہوئی ہے۔ اس کے بعد میت کو اپنے بدن کی تیک لگا کر ذرا بٹھلایا جائے اور اس کے پیٹ کو آہستہ آہستہ ملا اور دبایا جائے اگر پیٹ سے کوئی پاخانہ وغیرہ نکلے تو اسے پونچھ کر دھو ڈالا جائے۔ لیکن اس صفائی کے بعد پھر دوبارہ وضو اور غسل کی ضرورت نہیں اس کے بعد پھر اس کو بائیں کروٹ پر لٹا کر کافور پڑا ہوا پانی سر سے پیر تک تین مرتبہ ڈالا جائے۔ اگر بیری کے پتے اشنان اور کافور میسر نہ آئے تو سادہ نیم گرم پانی کافی ہے۔ اسی سے اسی طرح تین دفعہ نہلایا جائے۔ نہلانے کے بعد سارے دن کو کپڑے سے پونچھ دیا جائے اور پھر اس کے سر اور داڑھی پر عطر لگایا جائے اور ماتھے تک ناک، دونوں ہتھیلیوں، دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں پر کافور مل دیا جائے میت کے بالوں اور داڑھی میں کنگھی نہ کی جائے اور نہ ناخن و بال کترے جائیں۔ اسی طرح جس میت کی ختنہ نہ ہوئی ہو اس کی ختنہ بھی نہ کی جائے۔ ان تمام چیزوں سے فارغ کر کفنا دیا جائے۔
Top