مشکوٰۃ المصابیح - اذان کا بیان - حدیث نمبر 634
عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أتاه جبريل وهو يلعب مع الغلمان فأخذه فصرعه فشق عن قلبه فاستخرج منه علقة . فقال : هذا حظ الشيطان منك ثم غسله في طست من ذهب بماء زمزم ثم لأمه وأعاده في مكانه وجاء الغلمان يسعون إلى أمه يعني ظئره . فقالوا : إن محمدا قد قتل فاستقبلوه وهو منتقع اللون قال أنس : فكنت أرى أثر المخيط في صدره . رواه مسلم
دودھ پلانیوالی کا حق کس طرح ادا ہوسکتا ہے
اور حضرت حجاج بن حجاج اسلمی اپنے والد مکرم سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے یعنی حضرت حجاج اسلمی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! وہ کون سی چیز ہے جس سے میں دودھ کے حق میں سبکدوش ہوسکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مملوک یعنی بردہ خواہ غلام ہو یا لونڈی ( ترمذی ابوداؤد نسائی دارمی)

تشریح
پوچھنے والے کا مطلب یہ تھا کہ وہ کون سی چیز ہے جو میں اگر دودھ پلانیوالی کو دیدوں تو اس کی وجہ سے دودھ پلانیوالی کے اس حق میں سبکدوش ہوجاؤں جو اس کا دودھ پینے کی وجہ سے مجھ پر ہے! آنحضرت ﷺ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ اگر تم اس عورت کو کہ جس نے تمہیں دودھ پلایا ہے کوئی غلام یا لونڈی دیدو تو اس کے حق دودھ پلانے کا حق ادا ہوجائے گا۔ گویا حاصل یہ ہوا کہ دودھ پلانیوالی چونکہ ایک بڑی خدمت انجام دیتی ہے اس لئے اس کو بھی کوئی خادم دے دینا چاہئے تاکہ وہ خادم اس کی خدمت کرے اور اس طرح خدمت کا بدلہ خدمت ہوجائے۔
Top