جنت کے وارث
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا سلام کو عام یعنی ہر آشنا و نا آشنا کو سلام کرو اور غریب و محتاج لوگوں کو کھانا کھلاؤ اور کفار کے فتنہ و فساد کا سر کچلو جنت کے وارث بنائے جاؤ گے اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ جہاد میں پاسبانی کی فضیلت اور حضرت فضالہ ابن عبید رسول کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہر میت اپنے عمل پر اختتام پذیر ہوتی ہے یعنی ہر شخص کا عمل اس کی زندگی تک رہتا ہے مرنے کے بعد اس کا عمل بایں طور باقی نہیں رہتا کہ اس کو نیا ثواب ملے لیکن جو شخص اللہ کی راہ یعنی جہاد میں پاسبانی کرتا ہوا مرے تو اس کے لئے اس کا عمل قیامت کے دن تک بڑھا دیا جاتا ہے اور قبر کے فتنہ و عذاب سے مامون رہتا ہے ترمذی، ابوداؤد اور دارمی نے اس روایت کو عقبہ ابن عامر سے نقل کیا ہے۔

تشریح
اس کا عمل قیامت تک کے لئے بڑھا دیا جاتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ مرنے کے بعد بھی اس کو ہر لحظہ اس کے اس عمل کا نیا ثواب ملتا رہتا ہے کیونکہ اس نے ایک ایسے علم پر اپنی جان نذر کی ہے جس کا فائدہ ہمیشہ مسلمانوں کو پہنچتا رہے گا اور وہ عمل ہے دین کو زندہ وسربلند رکھنا جو اس شخص نے جہاد میں پاسبانی کے ذریعہ سے مسلمانوں کو دشمنوں سے محفوظ ومحتاط رکھ کر انجام دیا۔
Top