Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (3344 - 3425)
Select Hadith
3344
3345
3346
3347
3348
3349
3350
3351
3352
3353
3354
3355
3356
3357
3358
3359
3360
3361
3362
3363
3364
3365
3366
3367
3368
3369
3370
3371
3372
3373
3374
3375
3376
3377
3378
3379
3380
3381
3382
3383
3384
3385
3386
3387
3388
3389
3390
3391
3392
3393
3394
3395
3396
3397
3398
3399
3400
3401
3402
3403
3404
3405
3406
3407
3408
3409
3410
3411
3412
3413
3414
3415
3416
3417
3418
3419
3420
3421
3422
3423
3424
3425
مشکوٰۃ المصابیح - نفقات اور لونڈی غلام کے حقوق کا بیان - حدیث نمبر 3673
وعن معاذ بن جبل : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما بعثه إلى اليمين قال : كيف تقضي إذا عرض لك قضاء ؟ قال : أقضي بكتاب الله قال : فإن لم تجد في كتاب الله ؟ قال : فبسنة رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فإن لم تجد في سنة رسول الله ؟ قال : أجتهد رأيي ولا آلو قال : فضرب رسول الله صلى الله عليه و سلم على صدره وقال : الحمد لله الذي وفق رسول رسول الله لما يرضى به رسول الله . رواه الترمذي وأبو داود والدارمي
قیاس واجتہاد برحق ہے
اور حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے جب ان (معاذ) کو (قاضی وحاکم بنا کر) یمن بھیجا تو ان سے (بطور امتحان) پوچھا کہ جب تمہارے سامنے کوئی قضیہ پیش ہوگا تو تم کس طرح فیصلہ کرو گے؟ انہوں نے کہا کہ میں کتاب اللہ (قرآن کریم) کے موافق فیصلہ کروں گا۔ فرمایا اگر تمہیں وہ مسئلہ (صراحتًہ) کتاب اللہ میں نہ ملا؟ انہوں نے کہا پھر میں سنت رسول اللہ ﷺ (حدیث نبوی ﷺ کے موافق فیصلہ کروں گا فرمایا اگر تمہیں وہ مسئلہ سنت رسول ﷺ میں بھی نہ ملا؟ انہوں نے کہا تو پھر میں اپنی عقل سے اجتہاد کروں گا اور (اپنے اجتہاد و حقیقت رسی میں) کوتاہی نہیں کروں گا۔ (یا وہ روای جنہوں نے یہ حدیث معاذ سے روایت کی ہے۔ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے (یہ سن کر) اپنا دست مبارک معاذ کے سینے پر مارا (تاکہ اس کی برکت سے وہ اپنی بات پر ثابت قدم رہیں اور ان کے علم میں اضافہ ہو اور فرمایا) تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے رسول کریم ﷺ کے رسول (یعنی معاذ) کو اس چیز کی توفیق عطا کی جس سے (اللہ) اور اس کا رسول ﷺ راضی ہو۔ (ترمذی، ابوداؤد، دارمی)
تشریح
میں اپنی عقل سے اجتہاد کروں گا کا مطلب یہ ہے کہ میں اس قضیہ کا حکم ان مسائل پر قیاس کے ذریعہ حاصل کروں گا جو نصوص یعنی کتاب وسنت میں مذکور ہیں بایں طور کہ کتاب وسنت میں اس قضیہ کے مشابہ جو مسائل مذکور ہیں ان کے مطابق اس قضیہ کا حکم و فیصلہ کروں گا۔ مظہر نے بھی اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے۔ کہ پہلے میں غور وفکر کروں گا کہ میرے سامنے جو قضیہ پیش ہوا ہے کہ جس کا کوئی حکم کتاب وسنت میں مذکور نہیں ہے وہ کون سے ایسے مسئلہ سے مشابہ ہے جو کتاب وسنت میں مذکور ہے جب میں ان دونوں کے درمیان مشابہت پاؤں گا تو اس کا وہی حکم و فیصلہ کروں گا جو کتاب اللہ یا سنت رسول اللہ میں مذکور مسئلہ کا ہے، چناچہ آئمہ مجتہدین کے یہاں اس قیاس پر بہت سے مسائل کا استنباط کیا گیا ہے، یہ الگ بات ہے کہ ان آئمہ مجتہدین نے قیاس کی علت و بنیاد میں اختلاف کی ہے مثلًا گیہوں کے ربوا (سود) کے حرام ہونے کے بارے میں نفس (یعنی صریح حکم ) جب کہ تربوز کے بارے میں ایسی نص نہیں ہے۔ لہٰذا حضرت امام شافعی نے تربوز کو گیہوں پر قیاس کرتے ہوئے اس کے ربوا کو بھی حرام قرار دیا ہے کیونکہ ان کے نزدیک گیہوں کے ربوا کے حرام ہونے علت اس کا کھائی جانے والی چیز ہے اس لئے گیہوں کے حکم پر قیاس کرتے ہوئے اس کا ربوا بھی حرام ہوگا۔ جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک گیہوں کے ربوا کے حرام ہونے کی علت چونکہ اس کا مکیل (یا موزون) ہونا ہے اس لئے انہوں نے گیہوں پر چونے کو قیاس کیا اور یہ مسئلہ اخذ کیا کہ چونے کا ربوا بھی حرام ہے۔ بہرحال یہ حدیث قیاس و اجتہاد کے مشروع ہونے کی علت کی بہت مضبوط دلیل ہے اور اصحاب ظواہر (غیر مقلدین) کے مسلک کے خلاف ہے جو قیاس و اجتہاد کے منکر ہیں۔
Top