Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (3344 - 3425)
Select Hadith
3344
3345
3346
3347
3348
3349
3350
3351
3352
3353
3354
3355
3356
3357
3358
3359
3360
3361
3362
3363
3364
3365
3366
3367
3368
3369
3370
3371
3372
3373
3374
3375
3376
3377
3378
3379
3380
3381
3382
3383
3384
3385
3386
3387
3388
3389
3390
3391
3392
3393
3394
3395
3396
3397
3398
3399
3400
3401
3402
3403
3404
3405
3406
3407
3408
3409
3410
3411
3412
3413
3414
3415
3416
3417
3418
3419
3420
3421
3422
3423
3424
3425
مشکوٰۃ المصابیح - نفقات اور لونڈی غلام کے حقوق کا بیان - حدیث نمبر 2733
وعن كعب بن عجرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه و سلم مر به وهو بالحديبية قبل أن يدخل مكة وهو محرم وهو يوقد تحت قدر والقمل تهافت على وجهه فقال : أتؤذيك هوامك ؟ . قال : نعم . قال : فاحلق رأسك وأطعم فرقا بين ستة مساكين . والفرق : ثلاثة آصع : أو صم ثلاثة أيام أوانسك نسيكة
سرمنڈوانے کی جزا
حضرت کعب بن عجرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ان کے پاس سے گزرے جب کہ وہ مکہ میں داخل ہونے سے پہلے حدیبیہ میں تھے اور وہ کعب ؓ احرام کی حالت میں تھے یعنی یہ اس موقع کا ذکر ہے جب آپ ﷺ اپنے رفقاء کے ہمراہ عمرہ کے لئے مکہ روانہ ہوئے تھے لیکن مشرکین نے حدیبیہ میں سب کو روک دیا تھا چناچہ سب کے ساتھ کعب ؓ بھی مکہ میں داخل ہونے کے متوقع تھے مگر پھر بعد میں ایک معاہدہ کے تحت کہ جس کو صلح حدیبیہ کہتے ہیں، سب لوگ عمرہ کئے بغیرہ واپس ہوگئے تھے، بہرکیف جب آنحضرت ﷺ کعب کے پاس سے گزرے تو وہ ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہے تھے اور جوئیں سر سے جھڑ کر ان کے منہ پر گر رہی تھیں، چناچہ آنحضرت ﷺ نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ کیا یہ جوئیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں؟ انہوں نے عرض کیا۔ جی ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر تم اپنا سر منڈوا لو اور بطور جزاء ایک فرق کھانا چھ مسکینوں کو کھلا دو اور فرق تین صاع کا ہوتا ہے یا تین روزے رکھ لو اور یا ایک جانور جو ذبح کرنے کے قابل ہو، ذبح کرو۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
حضرت کعب ؓ بن عجرہ ایک جلیل القدر انصاری صحابی ہیں، صلح حدیبیہ کے موقع پر یہ بھی موجود تھے، ان کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ بڑا دلچسپ بھی ہے اور بڑا سبق آموز بھی۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ان کے پاس ایک بت تھا جس کو یہ پوجا کرتے تھے، عبادہ بن صامت ان کے دوست تھے، ایک دن عبادہ کعب کے پاس آئے تو انہوں نے دیکھا کہ کعب بت کی پوجا کرنے کے بعد گھر سے نکل کر گئے ہیں، عبادہ گھر میں داخل ہوئے اور اس بت کو توڑ ڈالا، جب کعب گھر میں آئے تو دیکھا کہ بت ٹوٹا پڑا ہے، انہیں معلوم ہوا کہ یہ حرکت عبادہ کی ہے، بڑے غضب ناک ہوئے اور چاہا کہ عبادہ کو برا بھلا کہیں مگر پھر سوچ میں پڑگئے، دل میں خیال پیدا ہوا کہ اگر اس بت کو کچھ بھی قدرت حاصل ہوتی تو اپنے آپ کو بچا لیتا، بس یہ خیال گزرنا تھا کہ شرک و کفر کا اندھیرا چھٹ گیا اور ایمان و صداقت کے نور نے قلب و دماغ کے ایک ایک گوشہ کو منور کردیا اور اس طرح وہ مشرف باسلام ہوگئے، سچ ہے اللہ تعالیٰ جسے ہدایت یافتہ بناتا ہے اسی طرح ہدایت کی توفیق بخش دیتا ہے۔ بہرکیف اس حدیث سے یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ اگر کوئی محرم کسی عذر مثلاً جوئیں، زخم اور درد سر وغیرہ کی وجہ سے اپنا سر منڈوائے تو اسے اختیار ہے کہ بطور جزاء چاہے تو چھ مسکینوں کو کھانا کھلائے بایں طور کہ ہر مسکین کو آدھا صاع گیہوں دے دے، چاہے تین روزے رکھ لے اور چاہے جانور ذبح کرے۔ چناچہ یہ حدیث اس آیت کریمہ کی تفسیر ہے کہ ( فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ بِه اَذًى مِّنْ رَّاْسِه فَفِدْيَةٌ مِّنْ صِيَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ ) 2۔ البقرۃ 196)۔ اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو اور وہ اپنا سر منڈا دے تو وہ بطور فدیہ یا تو روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے۔
Top