Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (6184 - 6254)
Select Hadith
6184
6185
6186
6187
6188
6189
6190
6191
6192
6193
6194
6195
6196
6197
6198
6199
6200
6201
6202
6203
6204
6205
6206
6207
6208
6209
6210
6211
6212
6213
6214
6215
6216
6217
6218
6219
6220
6221
6222
6223
6224
6225
6226
6227
6228
6229
6230
6231
6232
6233
6234
6235
6236
6237
6238
6239
6240
6241
6242
6243
6244
6245
6246
6247
6248
6249
6250
6251
6252
6253
6254
مشکوٰۃ المصابیح - مناقب کا جامع بیان - حدیث نمبر 6135
وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : العباس مني وأنا منه رواه الترمذي
حضرت عباس کی فضیلت
اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عباس مجھ سے ہیں اور میں عباس سے ہوں۔ (ترمذی)
تشریح
عباس مجھ سے ہیں یعنی میرے خاص قرابتیوں میں سے ہیں یا یہ کہ میرے اہل بیت میں سے ہیں علماء لکھتے ہیں کہ فضل و شرف اور شرف اور نبوت کے اعتبار سے تو آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی اصل ہے جب کہ نسب اور چچا ہونے کے اعتبار سے حضرت عباس ؓ اصل ہیں اور ظاہر یہ ہے کہ مذکورہ ارشاد گرامی دراصل کمال محبت وتعلق، یک جہتی و یگانگت اور اخلاص و اختلاط سے کنایہ ہے جیسا کہ آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ کے حق میں بھی فرمایا تھا کہ (اے علی) میں تم سے ہوں اور تم مجھ سے ہو۔ حضرت عباس بن عبد المطلب آنحضرت ﷺ کے چچا ہیں ان کی ولادت واقعہ فیل سے ایک سال قبل ہوئی ان کی والدہ قبیلہ نمر بن قاسط سے تعلق رکھتی تھیں اور وہ پہلی عرب خاتون ہیں جس نے کعبہ اقدس پر حریر و دیباج اور نوع بہ نوع قیمتی کپڑوں کا غلاف چڑھایا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت عباس ؓ بچپن میں کہیں گم ہوگئے تھے اور تلاش بسیار کے بعد ہاتھ نہیں لگے تو ان کی والدہ نے منت مانی کہ اگر میرا بیٹا مل جائے گا تو میں بیت الحرام پر غلاف چڑھاؤں گی۔ چناچہ جب حضرت عباس ؓ کا سراغ لگ گیا اور وہ گھر آگئے تو ان کی والدہ نے بڑے اہتمام کے ساتھ منت پوری کی۔ حضرت عباس ؓ زمانہ جاہلیت میں بھی مکہ اور قریش میں زبردست اثر و رسوخ رکھتے تھے۔ اور ایک بڑے سردار تسلیم کئے جاتے تھے۔ عمارۃ اور سقایۃ کے اہم مناصب ان کے سپرد تھے وہ آنحضرت ﷺ سے دو سال بڑے تھے اور چچا ہونے کے باوجود آنحضرت ﷺ کا غیر معمولی ادب احترام کرتے تھے منقول ہے کہ ایک دن کسی نے ان سے سوال کیا انت اکبر او النبی ﷺ (آپ بڑے ہیں یا آنحضرت ﷺ؟ تو انہوں نے جواب دیا ہو اکبر وانا اسن (بڑے تو آنحضرت ﷺ ہی ہیں ہاں عمر میری زیادہ ہے ) حضرت عباس ؓ نے اسلام تو بہت پہلے قبول کرلیا تھا لیکن بعض مصالح کے تحت اپنے اسلام کا اظہار نہیں کرتے تھے چناچہ جنگ بدر میں وہ بڑی کراہت کے ساتھ اور مجبوری کے تحت مشرکین مکہ کے ساتھ شریک تھے اور آنحضرت ﷺ نے مجاہدین اسلام سے فرما دیا تھا کہ جس شخص کا سامنا عباس ؓ سے ہوجائے وہ ان کو قتل نہ کرے کیونکہ وہ مجبوراً اس جنگ میں مشرکین مکہ کی طرف سے شریک ہیں جنگ کے خاتمہ پر حضرت عباس ؓ بھی قیدیوں میں شامل ہوئے اور ابوالیسیر بن کعب بن عمر نے ان کو قید کیا۔ پھر انہوں نے فدیہ (مالی معاوضہ) ادا کر کے رہائی حاصل کی اور مکہ واپس آگئے بعد میں وہاں سے باقاعدہ ہجرت کر کے مدینہ منورہ آگئے ٣٦ ھ میں ١٢ رجب جمعہ کے دن ان کی وفات ہوئی اس وقت ان کی عمر ٨٨ سال کی تھی اور جنت البقیع میں دفن کئے گئے روایتوں میں آتا ہے کہ انہوں نے اپنی وفات کے وقت کے ستر غلام آزاد کئے۔
Top