Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (6184 - 6254)
Select Hadith
6184
6185
6186
6187
6188
6189
6190
6191
6192
6193
6194
6195
6196
6197
6198
6199
6200
6201
6202
6203
6204
6205
6206
6207
6208
6209
6210
6211
6212
6213
6214
6215
6216
6217
6218
6219
6220
6221
6222
6223
6224
6225
6226
6227
6228
6229
6230
6231
6232
6233
6234
6235
6236
6237
6238
6239
6240
6241
6242
6243
6244
6245
6246
6247
6248
6249
6250
6251
6252
6253
6254
مشکوٰۃ المصابیح - مناقب کا جامع بیان - حدیث نمبر 6094
وعن جابر قال : نظر رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى طلحة بن عبيد الله قال : من أحب أن ينظر إلى رجل يمشي على وجه الأرض وقد قضى نحبه فلينظر إلى هذا . وفي رواية : من سره أن ينظر إلى شهيد يمشي على وجه الأرض فلينظر إلى طلحة بن عبيد الله رواه الترمذي
حضرت طلحہ کی فضیلت
اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ نے طلحہ بن عبیداللہ کی طرف (محبت بھری نظروں سے) دیکھا اور فرمایا جس شخص کی خواہش ہو کہ اس انسان کو دیکھے جو زمین پر چلتا پھرتا ہے لیکن حقیقت میں وہ مردہ ہے تو اس کو چاہئے کہ وہ اس انسان (طلحہ) کو دیکھے۔ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص ایسے شہید کا دیدار کرنا چاہے جو زمین پر چلتا پھرتا ہے تو وہ طلحہ بن عبیداللہ کو دیکھے۔ (ترمذی)
تشریح
حقیقت میں وہ مردہ ہے یہ قضی نحبہ کا ترجمہ ہے۔ اصل میں تو نحب کے معنی ہیں منت ماننا، نذر کرنا، عہد کرنا۔ لیکن اس کے ایک معنی موت اور اجل کے بھی آتے ہیں چناچہ قرآن کریم کی اس آیت! (مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَه وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ ) 33۔ الاحزاب 23) من مفسرین نے قضی نحبہ کی تفسیر میں دونوں معنی مرادلئے ہیں۔ اس لحاظ سے اس حدیث میں بھی قضی نحبہ کو اگرچہ دونوں معنی پر محمول کیا جاسکتا ہے لیکن دوسرے معنی (موت کے مفہوم میں) مراد لینا زیادہ صحیح اور زیادہ موزوں ہے جیسا کہ دوسری روایت شہید یمشی علی وجہ الارض سے بھی ہے۔ بہرصورت اس ارشاد گرامی سے آنحضرت ﷺ کا مقصد لوگوں کو یہ بتانا تھا کہ طلحہ وہ شخص ہے جس نے اللہ کی راہ میں اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے سرفروشی اور فدا کاری کا جو عہد کیا تھا اس کو پورا کردیا اور میدان جنگ میں اس نے جان سپاری کے ذریعہ درحقیقت موت کا مزہ چکھ لیا یہ اور بات ہے کہ وہ ابھی زندہ نظر آتا ہے، یہ معلوم ہی ہے کہ جنگ احد کے دن حضرت طلحہ نے خود کو آنحضرت ﷺ کی ڈھال بنا لیا تھا اور اس کے نتیجہ میں ان کے جسم کو کوئی حصہ کوئی عضو زخمی ہونے سے نہیں بچا تھا۔ بعض حضرات نے لکھا ہے اس حدیث میں حضرت طلحہ کے تعلق سے جو کچھ فرمایا گیا اس میں درحقیقت اس اختیاری موت کی طرف اشارہ ہے جو اہل سلوک اور ارباب فناہ کو حاصل ہوتی ہے یا مردہ ہونے سے ذات باری تعالیٰ کی طرف انجذاب اور ذکر الہٰی اور مشاہدہ ملکوت میں پوری طرح مستغرق ہونے کے سبب عالم شہادت سے غائب ہونا ہے جو دراصل (اختیاری موت) کا نتیجہ ہوتا ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ آپ ﷺ نے مردہ کہہ کر اس طرف اشارہ کیا ہو کہ مال کار حضرت طلحہ کو شہادت کی موت اور حسن خاتمہ کی سعادت نصیب ہوگی۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ حضرت طلحہ جنگ جمل میں شہید ہوئے۔
Top