Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (6184 - 6254)
Select Hadith
6184
6185
6186
6187
6188
6189
6190
6191
6192
6193
6194
6195
6196
6197
6198
6199
6200
6201
6202
6203
6204
6205
6206
6207
6208
6209
6210
6211
6212
6213
6214
6215
6216
6217
6218
6219
6220
6221
6222
6223
6224
6225
6226
6227
6228
6229
6230
6231
6232
6233
6234
6235
6236
6237
6238
6239
6240
6241
6242
6243
6244
6245
6246
6247
6248
6249
6250
6251
6252
6253
6254
مشکوٰۃ المصابیح - مناقب کا جامع بیان - حدیث نمبر 5556
عن أبي سعيد عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الرجل في الجنة ليتكئ في الجنة سبعين مسندا قبل أن يتحول ثم تأتيه امرأة فتضرب على منكبه فينظر وجهه في خدها أصفى من المرآة وإن أدنى لؤلؤة عليها تضيء ما بين المشرق والمغرب فتسلم عليه فيرد السلام ويسألها : من أنت ؟ فتقول : أنا من المزيد وإنه ليكون عليها سبعون ثوبا فينفذها بصره حتى يرى مخ ساقها من وراء ذلك وإن عليها من التيجان أن أدنىلؤلؤة منها لتضيء ما بين المشرق والمغرب . رواه أحمد
حوران جنت کا ذکر
اور حضرت ابوسعید ؓ رسول کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جنتی مرد جزا یافتہ شخص جنت میں ستر مسندوں کا تکیہ لگا کر بیٹھے گا قبل اس کے کہ ایک پہلو سے دوسرا پہلوبدلے پھر جنت کی عورتوں میں سے ایک عورت اس کے پاس آئے گی اور (اس کو اپنی طرف متوجہ ومائل کرنے کے لئے) اس کے کاندھے پر ٹھوکا دے گی، وہ مرد اس طرف متوجہ ہوگا اس کے رخساروں میں جو آئینہ سے زیادہ صاف و روشن ہوں گے اپنا چہرہ دیکھے گا اور حقیقت یہ ہے کہ اس عورت کے (کسی زیور یا تاج میں جڑا ہوا) ایک معمولی ساموتی بھی (اس قدر بیش قیمت اور نظر کو خیرہ کرنے والا ہوگا کہ) اگر وہ دنیا میں آجائے تو مشرق سے مغرب تک (کی ہر چیز) کو روشن ومنور کردے۔ بہرحال وہ عورت اس مرد کو سلام کرے گی اور مرد اس کے سلام کا جواب دے گا اور پوچھے گا تم کون ہو؟ وہ کہے گی کہ میں مزید میں سے ہوں۔ صورت حال یہ ہوگی کہ اس عورت کے جسم پر ستّر (رنگ برنگ) کپڑوں کا ( تہ درتہ لباس ہوگا اور اس مرد کی نظر عورت کے اس لباس میں سے بھی پار ہوجائے گی (یعنی وہ لباس کے نیچے چھپے ہوئے عورت کے حسن و جمال اور اس کے جسم کی نزاکت ولطافت کا نظارا کرے گا) یہاں تک کہ وہ مرد اس عورت کی پنڈلی کے گودے کو لباس کے پیچھے سے دیکھے گا (گویا اس کی نگاہ اتنی تیز اور صاف ہوگی کہ کوئی بھی چیز اس کے) آگے دیکھنے میں رکاوٹ نہیں بنے گی) اور اس عورت کے سر پر تاج رکھے ہونگے اور ان تاجوں کا معمولی ساموتی بھی ایسا ہوگا کہ اگر وہ (دنیا میں آجائے) تو مشرق سے مغرب تک (کی ہر چیز) کو روشن ومنور کردے۔ (احمد)
تشریح
قبل اس کے کہ وہ ایک پہلو سے دوسرا پہلو بدلے کے ذریعہ اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ اس مرد کے پہلوؤں میں اتنے زیادہ گاؤ تکئے رکھے ہونگے کہ وہ ایک ہی پہلو پر بیٹھا ہوا دوسرا پہلو بدلنے تک طرح طرح کے ستّر تکیوں سے ٹیک لگائے گا۔ میں، مزید، میں سے ہوں۔ یعنی ان نعمتوں میں سے ایک نعمت ہوں جن کا حق تعالیٰ نے تمہاری نیکو کاریوں کے بدلہ وجزاء کے علاوہ خصوصی انعام کے طور پر مزید عطا کرنے کا وعدہ کیا تھا یہ گویا قرآن کریم کی اس آیت کی طرف اشارہ ہوگا کہ (لَهُمْ مَّا يَشَا ءُوْنَ فِيْهَا وَلَدَيْنَا مَزِيْدٌ) 50۔ ق 35) ان (اہل ایمان) کو جنت میں وہ کچھ ملے گا جو ہم (جزاء کے طور پر) دینا چاہیں گے اس کے علاوہ ہمارے پاس اور بھی (خصوصی انعام) ہیں اس مضمون کی ایک آیت یہ بھی ہے (لِلَّذِيْنَ اَحْسَ نُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ) 10۔ یونس 26) نیک کاروں کے لئے جنت ہیں مزید برآں۔ ویسے مفسرین نے اس آیت میں زیادۃ (مزیدا برآں) کی تفسیر حق تعالیٰ کا دیدار کیا ہے، تاہم یہ اس بات کے منافی نہیں ہے کہ ان مزید نعمتوں (خصوصی انعام) میں سے ایک نعمت بعض حوریں بھی ہیں، رہی یہ بات کہ حوران جنت کی اس نعمت کو مزید یا زیادہ سے کیوں تعبیر فرمایا گیا ہے تو وجہ یہ ہے کہ وہ فضل الٰہی سے بندوں کو ان نیک اعمال کی جزاء میں عطا کی جائیں گی، اب وہ جنت عطا ہونے کے بعد پھر بندوں کو جو کچھ ملے گا وہ خصوصی عنایت و انعام اور فضل بر فضل ہوگا اور ظاہر ہے کہ اصل اجر و بدلہ سے زائد چیز ہوگی۔
Top