Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (6184 - 6254)
Select Hadith
6184
6185
6186
6187
6188
6189
6190
6191
6192
6193
6194
6195
6196
6197
6198
6199
6200
6201
6202
6203
6204
6205
6206
6207
6208
6209
6210
6211
6212
6213
6214
6215
6216
6217
6218
6219
6220
6221
6222
6223
6224
6225
6226
6227
6228
6229
6230
6231
6232
6233
6234
6235
6236
6237
6238
6239
6240
6241
6242
6243
6244
6245
6246
6247
6248
6249
6250
6251
6252
6253
6254
مشکوٰۃ المصابیح - مناقب کا جامع بیان - حدیث نمبر 554
عَنْ سَےَّارِ بْنِ سَلَامَۃَ قَالَ دَخَلْتُ اَنَا وَاَبِیْ عَلٰی اَبِیْ بَرْزَۃَ الْاَسْلَمِیِّ ص فَقَالَ لَہُ اَبِیْ کَےْفَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےُصَلِّی الْمَکْتُوْبَۃَ فَقَالَ کَانَ ےُصَلِّی الْھَجِےْرَ الَّتِیْ تَدْعُوْنَھَا الْاُوْلٰی حِےْنَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ وَےُصَلِّی الْعَصْرَ ثُمَّ ےَرْجِعُ اَحَدُنَا اِلٰی رَحْلِہٖ فِیْ اَقْصَی الْمَدِےْنَۃِ وَالشَّمْسُ حَےَّۃٌ وَّنَسِےْتُ مَاقَالَ فِی الْمَغْرِبِ وَکَانَ ےَسْتَحِبُّ اَنْ ےُّؤَخِّرَ الْعِشَآءَ الَّتِیْ تَدْعُوْنَھَا الْعَتَمَۃَ وَکَانَ ےَکْرَہُ النَّوْمَ قَبْلَھَا وَالْحَدِےْثَ بَعْدَھَا وَکَانَ ےَنْفَتِلُ مِنْ صَلٰوۃِ الْغَدَاۃِ حِےْنَ ےَعْرِفُ الرَّجُلُ جَلِےْسَہُ وَےَقْرَأُ بِالسِّتِّےْنَ اِلَی الْمِائَۃِ وَفِیْ رِوَاےَۃٍ وَّلَا ےُبَالِیْ بِتَأْخِےْرِ الْعِشَآءِ اِلٰی ثُلُثِ الَّلےْلِ وَلَا ےُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَھَا وَالْحَدِےْثَ بَعْدَھَا۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
جلدی نماز پڑھنے کا بیان
حضرت سیار ابن سلامہ (رح) فرماتے ہیں کہ میں اور میرے والد (ہم دونوں) حضرت ابوبرزہ اسلمی ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے، میرے والد نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ فرض نمازیں کس طرح (یعنی کس کس وقت) پڑھتے تھے، انہوں نے فرمایا کہ آپ ﷺ ظہر کی نماز جسے پہلی نماز کہا جاتا ہے سورج ڈھلنے کے وقت پڑھتے تھے اور عصر کی نماز (ایسے وقت) پڑھتے تھے کہ ہم میں سے کوئی نماز پڑھ کر مدینہ کے کنارے اپنے مکان پر جا کر سورج روشن ہوتے ہوئے ( یعنی اس کے متغیر ہونے سے پہلے) واپس آجاتا تھا۔ سیار فرماتے ہیں کہ مغرب کے بارے میں ابوبرزہ ؓ نے جو کچھ بتایا تھا وہ میں بھول گیا اور (ابوبرزہ ؓ کہتے تھے کہ عشاء کی نماز جسے تم عتمہ کہتے ہو رسول اللہ ﷺ تاخیر سے پڑھنے کو بہتر سمجھتے تھے اور عشاء کی نماز سے پہلے سونے اور عشاء کی نماز کے بعد (دنیاوی) باتیں کرنے کو آپ ﷺ مکروہ سمجھتے تھے اور صبح کو نماز ایسے وقت پڑھ ( کر فارغ ہو) لیتے تھے کہ ہر آدمی اپنے پاس بیٹھنے والے کو پہچان لیتا تھا اور (نماز میں) ساٹھ آیتوں سے لے کر سو آیتوں تک پڑھ لیا کرتے تھے، ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تہائی رات تک عشاء میں دیر کرنے میں تامل نہ فرماتے تھے اور عشاء کی نماز سے پہلے سونے اور عشاء کی نماز کے بعد باتیں کرنے کو پسند نہیں فرماتے تھے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
یہاں ظہر کے بارے میں جو وقت ذکر گیا ہے اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ سردی کے موسم میں ظہر کی نماز اوّل وقت پڑھتے ہوں گے کیونکہ یہ قولا اور فعلا ثابت ہوچکا ہے کہ آپ ﷺ گرمی کے موسم میں ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھتے تھے۔ عتمہ اس تاریکی کو کہتے ہیں جو شفق غائب ہونے کے بعد ہوتی ہے چناچہ پہلے عرب میں عتمہ عشاء کو کہتے تھے مگر بعد میں رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو منع کردیا کہ عشاء کو عتمہ نہ کہا جائے۔ یہاں تاخیر سے مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ عشاء کی نماز تہائی رات تک تاخیر کر کے پڑھتے تھے۔ آپ ﷺ عشاء کی نماز کے بعد دنیا کی باتیں کرنے کو پسند نہیں فرماتے تھے اور اس کا مقصد یہ تھا کہ اعمال کا خاتمہ عبادت اور ذکر اللہ پر ہونا چاہئے کیونکہ نیند بمنزلہ موت ہے۔ شرح السنۃ میں منقول ہے کہ عشاء سے پہلے سونے کو اکثر علماء نے مکروہ کہا ہے اور بعض حضرات نے سونے کی اجازت دی ہے چناچہ حضرت عمر فاروق ؓ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عشاء سے پہلے سوتے اور بعض علماء کے نزدیک صرف رمضان میں عشاء سے پہلے سونا جائز ہے۔ حضرت امام نووی (رح) فرماتے ہیں کہ اگر نیند کا غلبہ ہو اور یہ خوف نہ ہو کہ عشاء کی نماز کا وقت سونے کی نذر ہوجائے گا تو سونا مکروہ نہیں ہے۔ عشاء کے بعد باتوں میں مشغول ہونے کو علماء کی ایک جماعت نے مکروہ کہا ہے چناچہ حضرت سعید ابن مسیب کے بارے میں بھی منقول ہے کہ وہ کہتے تھے کہ میرے نزدیک بغیر عشاء کی نماز پڑھے سو رہنا اس سے بہتر ہے کہ عشاء کی نماز کے بعد کوئی آدمی لغو کلام اور دنیاوی باتوں میں مشغول ہو۔ بعض علماء نے عشاء کے بعد علم کی باتیں کرنے کی اجازت دی ہے اسی طرح ضرورت اور حاجت کے سلسلے میں یا گھر والوں اور مہمان کے ساتھ باتیں کرنے کی بھی اجازت دی ہے۔ (ملا علی قاری) حضرت شٰخ عبدالحق محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ دونوں چیزیں جائز ہیں، یعنی اگر کوئی آدمی عشاء کی نماز سے پہلے سستی اور کاہلی کو دور کرنے اور نشاط و تازگی حاصل کرنے کے لئے سونا چاہے تو اس کے لئے سونا جائز ہے، اسی طرح عشاء کی نماز کے بعد ایسی باتیں کرنا جو ضروری ہوں اور بےمعنی نہ ہوں جائز ہے۔
Top