Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (6184 - 6254)
Select Hadith
6184
6185
6186
6187
6188
6189
6190
6191
6192
6193
6194
6195
6196
6197
6198
6199
6200
6201
6202
6203
6204
6205
6206
6207
6208
6209
6210
6211
6212
6213
6214
6215
6216
6217
6218
6219
6220
6221
6222
6223
6224
6225
6226
6227
6228
6229
6230
6231
6232
6233
6234
6235
6236
6237
6238
6239
6240
6241
6242
6243
6244
6245
6246
6247
6248
6249
6250
6251
6252
6253
6254
مشکوٰۃ المصابیح - مناقب کا جامع بیان - حدیث نمبر 4781
خوش طبعی کا بیان
مزاح، میم کے زیر کے ساتھ مصدر ہے جس کے معنی خوش طبعی کرنا ہنسنا مذاق کرنا اور میم کے پیش کے ساتھ یعنی مزاح اسم مصدر ہے جس کے معنی مطالبہ یعنی خوش طبعی و ظرافت کے ہیں۔ عربی میں لفظ مزاح کا اطلاق اس خوش طبعی اور ہنسی مذاق پر ہوتا ہے کہ جس میں کسی کی دل شکنی اور ایذاء رسانی کا پہلو نہ ہو اس کے برخلاف جس خوش طبعی اور ہنسی مذاق کا تعلق دل شکنی اور ایذاء رسانی سے ہو اس کو سخریہ کہتے ہیں۔ ایک حدیث میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ لاتمار اخاک ولاتمازحہ، یعنی اپنے مسلمان بھائی سے جھگڑا فساد نہ کرو اور نہ اس کے ساتھ ہنسی مذاق کرو تو علماء لکھتے ہیں کہ وہ مزاح و ظرافت ممنوع ہے جس میں حد سے تجاوز کیا جائے اور اس کو عادت بنا لیا جائے کیونکہ ہر وقت مزاح و ظرافت میں مبتلا رہنا اور اس میں حد سے تجاوز کرنا بہت زیادہ ہنسنے اور قہقہ لگانے کا باعث ہوتا ہے قلب و ذہن کو قساوت اور بےحسی میں مبتلا کردیتا ہے ذکر الٰہی سے غافل کردیتا ہے مہمات دین میں غور و فکر اور پیش قدمی سے باز رکھتا ہے اور اکثر اوقات اس کا انجام ایذا رسانی اور آپس میں بغض وعناد کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے علاوہ ازیں یہ بھی حقیقت ہے جو شخص ہر وقت ہنسی مذاق کرتا رہتا ہے اس کی شخص بری طرح متاثر ہوتی ہے اور مجروح ہوتی ہے اس کا کوئی دبدبہ قائم نہیں رہتا اور نہ اس کو عظمت اور اس کا وقار باقی رہتا ہے اس کے برعکس جو مزاح و ظرافت حد کے اندر اور کبھی کھبار کی جائے وہ نہ صرف مباح ہے بلکہ صحت مزاج اور و نور نشاط اور سلامت طبع کی علامت بھی ہے چناچہ آنحضرت ﷺ بھی مزاح و ظرافت کو اختیار فرماتے تھے جس سے آپ کا مقصد مخاطب کے دل بستگی و خوش وقتی اور آپس میں محبت و موانست کے جذبات کو مستحکم کرنا ہوتا تھا اور یہ چیز سنت مستحبہ ہے اور اگر اس موقع پر یہ اشکال واقع ہو کہ یہ بات کہ وہی مزاح و ظرافت مباح جو کبھی کبھی ہو اس روایت کے مخالفت ہے کہ یعنی میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ مزاح کرنے والا کسی کو نہیں دیکھا تو اس کا جواب مختصر یہ ہوگا کہ زیادہ مزاح و ظرافت کرنے کی ممانعت اس وجہ سے ہے کہ اس سے نفس پر قابو نہیں رہتا اور ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ کے برابر کوئی شخص ایسا نہیں جو اپنے نفس کو قابو میں رکھ سکے لہذا یہ چیز زیادہ مزاح کرنا ان امور میں سے ہے جو صرف آنحضرت ﷺ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہیں دوسروں کے لئے ان سے اجتناب ہی اولی ہے اس کی تائید ترمذی کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے جو آگے آئے گی صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ ہمارے ساتھ مزاح فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا میں مزاح میں سچ کہتا ہون حاصل یہ کہ مزاح کرنے کی ممانعت کا تعلق آنحضرت ﷺ کے سوا دوسرے لوگوں سے ہے ہاں اگر کوئی شخص حد پر قائم رہے اور نفس پر قابو رکھے اور راہ اعتدال سے منحرف نہ ہونے پر قادر ہو وہ بھی اس ممانعت سے مستثنی ہوگا۔
Top