Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (6184 - 6254)
Select Hadith
6184
6185
6186
6187
6188
6189
6190
6191
6192
6193
6194
6195
6196
6197
6198
6199
6200
6201
6202
6203
6204
6205
6206
6207
6208
6209
6210
6211
6212
6213
6214
6215
6216
6217
6218
6219
6220
6221
6222
6223
6224
6225
6226
6227
6228
6229
6230
6231
6232
6233
6234
6235
6236
6237
6238
6239
6240
6241
6242
6243
6244
6245
6246
6247
6248
6249
6250
6251
6252
6253
6254
مشکوٰۃ المصابیح - مناقب کا جامع بیان - حدیث نمبر 4659
وعن جابر قال أراد النبي صلى الله عليه وسلم أن ينهي عن أن يسمى بيعلى وببركة وبأفلح وبيسار وبنافع وبنحو ذلك . ثم سكت بعد عنها ثم قبض ولم ينه عن ذلك . رواه مسلم .
چند ممنوع نام
اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے یہ ارادہ فرمایا تھا کہ یعلی، برکت، افلح، یسار، نافع اور اس طرح کے دورے نام رکھنے سے لوگوں کو منع فرما دیں لیکن پھر میں نے دیکھا کہ اس ارادہ کے بعد آپ نے سکوت فرمایا یہاں تک کہ آپ اس دنیا سے تشریف لے گئے اور ان ناموں کے رکھنے سے منع نہیں فرمایا۔ (مسلم)
تشریح
اس حدیث سے بظاہر معلوم ہوا کہ مذکورہ بالا طرح کے نام رکھنے کی ممانعت نافذ نہیں ہوئی ہے جب کہ پچھلی حدیث ممانعت کے نفاذ پر واضح طور سے دلالت کرتی ہے اس تضاد کو دور کرنے کے لئے یحییٰ کہتے ہیں کہ گویا حضرت جابر ؓ نے ممانعت کی علامتوں کو دیکھا اور وہ چیز سنی جو ممانعت کی طرف اشارہ کرتی ہے چونکہ انہوں نے ممانعت کا حکم صریح طور سے نہیں سنا تھا اس لئے اس مسئلہ کو انہوں نے مذکورہ اسلوب میں بیان کیا لیکن یہ ممانعت چونکہ حدیث صحیح سے ثابت ہوئی ہے اس لئے یہی کہا جائے گا کہ ممانعت ثابت ہے علاوہ ازیں ملا علی قاری کہتے ہیں کہ میرے نزدیک اس تضاد دور کرنے کے لئے ایک اور تاویل ہے وہ یہ کہ آنحضرت ﷺ کے ارادہ کا تعلق دراصل اس ممانعت کو نہی تحریمی کے طور پر نافذ کرنے سے تھا کہ ناموں کا مسئلہ ایسا ہے جس کی طرف لوگ زیادہ توجہ نہیں دیں گے اور اچھے و برے ناموں میں فرق و امتیاز کرنے کے پابند نہیں ہوں گے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کی وجہ سے امت کے لوگ دینی نقصان میں مبتلا ہوں گے لہذا کہا جائے گا کہ جس روایت سے ممانعت کا عدم نفاذ ثابت ہوتا ہے اس کا تعلق نہی تحریمی سے ہے اور حقیقت میں مسئلہ بھی یہی ہے کہ مذکورہ طرح کے نام رکھنا مکروہ تنزیہی ہے مکروہ تحریمی نہیں ہے۔
Top