Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (6184 - 6254)
Select Hadith
6184
6185
6186
6187
6188
6189
6190
6191
6192
6193
6194
6195
6196
6197
6198
6199
6200
6201
6202
6203
6204
6205
6206
6207
6208
6209
6210
6211
6212
6213
6214
6215
6216
6217
6218
6219
6220
6221
6222
6223
6224
6225
6226
6227
6228
6229
6230
6231
6232
6233
6234
6235
6236
6237
6238
6239
6240
6241
6242
6243
6244
6245
6246
6247
6248
6249
6250
6251
6252
6253
6254
مشکوٰۃ المصابیح - مناقب کا جامع بیان - حدیث نمبر 122
عَنِ الْبَرَآءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اَلْمُسْلِمُ اِذَا سُئِلَ فِی الْقَبْرِ ےَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ فَذَالِکَ قَوْلُہُ ےُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِےْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَےٰوۃِ الدُّنْےَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ (ابراھیم پ١٣۔رکوع١٦)وَفِی رِوَاےَۃٍ عَنِِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ ےُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِےْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ نَزَلَتْ فِی عَذَابِ الْقَبْرِ ےُقَالُ لَہُ مَنْ رَّبُّکَ فَےَقُوْلُ رَبِّیَ اللّٰہُ وَنَبِیِّیْ مُحَمَّدٌ صلی اللہ علیہ وسلم ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
عذاب قبر کے ثبوت کا بیان
حضرت براء بن عازب ( اسم گرامی براء بن عازب اور کنیت ابوعمارہ ہے مدینہ کے باشندہ اور انصاری ہیں جنگ بدر میں آپ شریک نہیں ہوسکے تھے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے صغر سنی کی وجہ سے روک دیا تھا سب سے پہلے غزوہ احد میں شریک ہوئے ہیں)۔ راوی ہیں کہ سرکار کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا جس وقت قبر میں مسلمان سے سوال کیا جاتا ہے تو وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بلا شبہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور یہی مطلب ہے اس ارشاد بانی کا یُثَبِّتُ ا ُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فَی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وِفِیْ الْاٰخِرَۃِ (القرآن) ترجمہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ثابت و قائم رکھتا ہے جو ایمان لاتے ہیں مضبوط و محکم طریقہ پر ثابت رکھنا دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں اور ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ آیت (يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ ) 14۔ ابراہیم 27) عذاب قبر کے بیان میں نازل ہوئی ہے (چنانچہ قبر میں مردہ سے) سوال کیا جاتا ہے کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور میرے نبی محمد ﷺ ہیں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
آیت مذکورہ میں بالقول الثابت سے مراد کلمہ شہادتے ہے یعنی جب مومن سے قبر میں سوال کیا جاتا ہے کہ تیرا پروردگار کون ہے اور تیرا پیغمبر کون ہے اور تیرا دین کیا تو ان تینوں سوالوں کا جواب اسی کلمہ شہادت میں ہے۔ آیت کے دوسرے جز کا مطلب یہ ہے جو لوگ ایمان و یقینی کی روشنی سے اپنے قلوب کو منور کرلیتے ہیں اور جن کے دل میں ایمان و اسلام کی حقانیت راسخ اور پختہ ہوجاتی ہے اللہ تعالیٰ کی جانب سے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دونوں جگہ ان پر رحمت الٰہی کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ دنیاوی زندگی کا اس کا فضل تو یہ ہے کہ وہ اپنے ان نیک بندوں کو کلمہ اسلام کی حقانیت کے اعتقاد پر قائم رکھتا ہے اور ان کے دل میں ایمان و اسلام کی وہ روح اور طاقت بھر دیتا ہے کہ دنیاوی امتحان و آزامائش کے سخت سے سخت موقع پر بھی ان کے پائے استقلال میں لغزش نہیں آتی وہ اپنی جانوں کو قربان کردینا اور آگ میں ڈالے جانا پسند کرتے ہیں لیکن اپنے ایمان و اعتقاد میں ذرہ برابر بھی شک و شبہ کرنا گوارہ نہیں کرتے۔ اخروی زندگی میں اس کی رحمت اس طرح ہوتی ہے کہ وہ اللہ کی بیشمار نعمتوں سے نوازے جاتے ہیں اور عالم برزخ میں جب قبر کے اندر ان سے سوال کیا جاتا ہے تو وہ ٹھیک ٹھیک جواب دیتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ ہمیشہ کی نجات اور اکرام الٰہی کے مستحق قرار دے دیئے جاتے ہیں۔
Top