Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (5792 - 5871)
Select Hadith
5792
5793
5794
5795
5796
5797
5798
5799
5800
5801
5802
5803
5804
5805
5806
5807
5808
5809
5810
5811
5812
5813
5814
5815
5816
5817
5818
5819
5820
5821
5822
5823
5824
5825
5826
5827
5828
5829
5830
5831
5832
5833
5834
5835
5836
5837
5838
5839
5840
5841
5842
5843
5844
5845
5846
5847
5848
5849
5850
5851
5852
5853
5854
5855
5856
5857
5858
5859
5860
5861
5862
5863
5864
5865
5866
5867
5868
5869
5870
5871
مشکوٰۃ المصابیح - معجزوں کا بیان - حدیث نمبر 6180
وعن أنس قال : بلغ صفية أن حفصة قالت : بنت يهودي فبكت فدخل عليها النبي صلى الله عليه و سلم وهي تبكي فقال : ما يبكيك ؟ فقالت : قالت لي حفصة : إني ابنة يهودي فقال النبي صلى الله عليه و سلم : إنك ابنة نبي وإن عمك لنبي وإنك لتحت نبي ففيم تفخر عليك ؟ ثم قال : اتقي الله يا حفصة . رواه الترمذي والنسائي
حضرت صفیہ کی دلداری
اور حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ام المؤمنین حضرت صفیہ ؓ کو معلوم ہوا کہ ام المؤمنین حضرت حفصہ ؓ نے ان کو یہودی کی بیٹی کہا ہے تو وہ رونے لگیں اور جب رسول کریم ﷺ ان کے ہاں تشریف لے آئے تو وہ اس وقت بھی رو رہی تھیں، آپ نے ان سے پوچھا کیوں رو رہی ہو انہوں نے کہا میرے بارے میں حفصہ ؓ نے کہا ہے کہ میں یہودی کی بیٹی ہوں یہ سن کر نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم ان کے کہنے کا غم نہ کرو حقیقت تو یہ ہے کہ تم پیغمبر کی بیٹی ہو تمہارا چچا بھی پیغمبر تھا اور اب تم ایک پیغمبر کی یعنی میری بیوی ہو پھر آپ نے حفصہ ؓ کو متنبہ کیا کہ اے حفصہ، تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہئے۔ (ترمذی، نسائی)
تشریح
حضرت حفصہ ؓ کا باپ حیی بن اخطب دراصل حضرت ہارون پیغمبر (علیہ السلام) کی اولاد سے تھا اور حضرت ہارون حضرت موسیٰ کے بھائی تھے اس اعتبار سے حضرت صفیہ ؓ کے باپ یعنی جد اعلی پیغمبر ہوئے اور ان کے چچا بھی پیغمبر ہوئے یا یہ بات اپنے جد اکبر یعنی حضرت اسحاق کے اعتبار سے فرمائی کہ گویا حضرت صفیہ ؓ کو حضرت اسحاق کی بیٹی کہا اور حضرت اسماعیل کو ان کا چچا کہا اور اب تم ایک پیغمبر کی بیوی ہو یعنی حفصہ کو سوچنا چاہئے کہ تمہاری ان سب اعلی و اشرف نسبتوں کے مقابلہ پر خود ان کو اور کون سی اس سے بھی بڑی نسبت حاصل ہے اور ایسی کون سی بڑی فضیلت ان میں ہے کہ وہ تم پر فخر کرتی ہیں۔ اور نسب و نسل میں تمہیں اپنے سے کمتر سمجھتی ہیں واضح ہو کہ آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کا مقصد حضرت صفیہ ؓ کی دلداری اور اس تنقیص و تحقیر کا ازالہ کرنا تھا جو حضرت حفصہ ؓ کے الفاظ سے حضرت صفیہ ؓ نے محسوس کی تھی جب کہ وہ صفیہ نہ صرف اپنی ذات کے اعتبار سے ایک سردار خاندان کی معزز خاتون تھیں بلکہ اپنے دینی محاسن اور اوصاف کے اعتبار سے بھی ایک جامع شخصیت تھیں یہ نہیں کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت صفیہ ؓ کے حق میں یہ باتیں دوسری ازواج مطہرات پر ان کو کسی فضیلت و بڑائی کو ظاہر کرنے کے لئے فرمائی تھیں کیونکہ نسبتوں کا یہ شرف تنہا حضرت صفیہ ؓ کا حصہ نہیں تھا۔ اس شرف میں تو دوسری ازواج مطہرات بھی اس اعتبار سے شریک ہیں کہ وہ بھی تو ایک پیغمبر حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے ہیں جو حضرت اسحاق کے بھائی تھے اور وہ سب بھی آنحضرت ﷺ کی بیویاں ہیں۔ تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہئے یعنی صفیہ کی مخالفت یا عداوت کے جذبہ سے تمہیں ایسی باتیں زبان سے نہیں نکالنی چاہئیں جو زمانہ جاہلیت کی یاد گار ہیں اور جن کو اللہ تعالیٰ کسی حالت میں پسند نہیں کرتا۔
Top