Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (5792 - 5871)
Select Hadith
5792
5793
5794
5795
5796
5797
5798
5799
5800
5801
5802
5803
5804
5805
5806
5807
5808
5809
5810
5811
5812
5813
5814
5815
5816
5817
5818
5819
5820
5821
5822
5823
5824
5825
5826
5827
5828
5829
5830
5831
5832
5833
5834
5835
5836
5837
5838
5839
5840
5841
5842
5843
5844
5845
5846
5847
5848
5849
5850
5851
5852
5853
5854
5855
5856
5857
5858
5859
5860
5861
5862
5863
5864
5865
5866
5867
5868
5869
5870
5871
مشکوٰۃ المصابیح - معجزوں کا بیان - حدیث نمبر 6135
وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : العباس مني وأنا منه رواه الترمذي
حضرت عباس کی فضیلت
اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عباس مجھ سے ہیں اور میں عباس سے ہوں۔ (ترمذی)
تشریح
عباس مجھ سے ہیں یعنی میرے خاص قرابتیوں میں سے ہیں یا یہ کہ میرے اہل بیت میں سے ہیں علماء لکھتے ہیں کہ فضل و شرف اور شرف اور نبوت کے اعتبار سے تو آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی اصل ہے جب کہ نسب اور چچا ہونے کے اعتبار سے حضرت عباس ؓ اصل ہیں اور ظاہر یہ ہے کہ مذکورہ ارشاد گرامی دراصل کمال محبت وتعلق، یک جہتی و یگانگت اور اخلاص و اختلاط سے کنایہ ہے جیسا کہ آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ کے حق میں بھی فرمایا تھا کہ (اے علی) میں تم سے ہوں اور تم مجھ سے ہو۔ حضرت عباس بن عبد المطلب آنحضرت ﷺ کے چچا ہیں ان کی ولادت واقعہ فیل سے ایک سال قبل ہوئی ان کی والدہ قبیلہ نمر بن قاسط سے تعلق رکھتی تھیں اور وہ پہلی عرب خاتون ہیں جس نے کعبہ اقدس پر حریر و دیباج اور نوع بہ نوع قیمتی کپڑوں کا غلاف چڑھایا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت عباس ؓ بچپن میں کہیں گم ہوگئے تھے اور تلاش بسیار کے بعد ہاتھ نہیں لگے تو ان کی والدہ نے منت مانی کہ اگر میرا بیٹا مل جائے گا تو میں بیت الحرام پر غلاف چڑھاؤں گی۔ چناچہ جب حضرت عباس ؓ کا سراغ لگ گیا اور وہ گھر آگئے تو ان کی والدہ نے بڑے اہتمام کے ساتھ منت پوری کی۔ حضرت عباس ؓ زمانہ جاہلیت میں بھی مکہ اور قریش میں زبردست اثر و رسوخ رکھتے تھے۔ اور ایک بڑے سردار تسلیم کئے جاتے تھے۔ عمارۃ اور سقایۃ کے اہم مناصب ان کے سپرد تھے وہ آنحضرت ﷺ سے دو سال بڑے تھے اور چچا ہونے کے باوجود آنحضرت ﷺ کا غیر معمولی ادب احترام کرتے تھے منقول ہے کہ ایک دن کسی نے ان سے سوال کیا انت اکبر او النبی ﷺ (آپ بڑے ہیں یا آنحضرت ﷺ؟ تو انہوں نے جواب دیا ہو اکبر وانا اسن (بڑے تو آنحضرت ﷺ ہی ہیں ہاں عمر میری زیادہ ہے ) حضرت عباس ؓ نے اسلام تو بہت پہلے قبول کرلیا تھا لیکن بعض مصالح کے تحت اپنے اسلام کا اظہار نہیں کرتے تھے چناچہ جنگ بدر میں وہ بڑی کراہت کے ساتھ اور مجبوری کے تحت مشرکین مکہ کے ساتھ شریک تھے اور آنحضرت ﷺ نے مجاہدین اسلام سے فرما دیا تھا کہ جس شخص کا سامنا عباس ؓ سے ہوجائے وہ ان کو قتل نہ کرے کیونکہ وہ مجبوراً اس جنگ میں مشرکین مکہ کی طرف سے شریک ہیں جنگ کے خاتمہ پر حضرت عباس ؓ بھی قیدیوں میں شامل ہوئے اور ابوالیسیر بن کعب بن عمر نے ان کو قید کیا۔ پھر انہوں نے فدیہ (مالی معاوضہ) ادا کر کے رہائی حاصل کی اور مکہ واپس آگئے بعد میں وہاں سے باقاعدہ ہجرت کر کے مدینہ منورہ آگئے ٣٦ ھ میں ١٢ رجب جمعہ کے دن ان کی وفات ہوئی اس وقت ان کی عمر ٨٨ سال کی تھی اور جنت البقیع میں دفن کئے گئے روایتوں میں آتا ہے کہ انہوں نے اپنی وفات کے وقت کے ستر غلام آزاد کئے۔
Top