Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (5792 - 5871)
Select Hadith
5792
5793
5794
5795
5796
5797
5798
5799
5800
5801
5802
5803
5804
5805
5806
5807
5808
5809
5810
5811
5812
5813
5814
5815
5816
5817
5818
5819
5820
5821
5822
5823
5824
5825
5826
5827
5828
5829
5830
5831
5832
5833
5834
5835
5836
5837
5838
5839
5840
5841
5842
5843
5844
5845
5846
5847
5848
5849
5850
5851
5852
5853
5854
5855
5856
5857
5858
5859
5860
5861
5862
5863
5864
5865
5866
5867
5868
5869
5870
5871
مشکوٰۃ المصابیح - معجزوں کا بیان - حدیث نمبر 6131
وعن زيد بن أرقم قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إني تارك فيكم ما إن تمسكتم به لن تضلوا بعدي أحدهما أعظم من الآخر : كتاب الله حبل ممدود من السماء إلى الأرض وعترتي أهل بيتي ولن يتفرقا حتى يردا علي الحوض فانظروا كيف تخلفوني فيهما . رواه الترمذي
حضور اکرم ﷺ کی وصیت
حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں میرے بعد جب تک تم انہیں پکڑے رہو گے کبھی گمراہ نہ ہو گے ایک ان میں دوسری سے عظیم تر ہے۔ وہ ایک تو اللہ کی کتاب ہے اور اللہ تعالیٰ کی آسمان سے زمین کی طرف پھیلی ہوئی رسی ہے اور دوسری میری اولاد میرے گھر والے ہیں اور وہ الگ الگ نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر وہ میرے پاس آپہنچیں گے پس تم لوگ سوچ لو کہ تم میرے بعد ان سے کیا معاملہ کرتے ہو اور کیسے پیش آتے ہو۔ (ترمذی)
تشریح
اس واقعہ کے بیان کرنے والے زید بن ارقم الانصاری الخزرجی مشہور صحابی ہیں غزوہ احد میں بوجہ کمسنی کے حضور ﷺ نے ان کو شریک نہیں فرمایا۔ غزوہ خندق اور اس کے بعد تمام غزوات میں شریک رہے انہوں نے عبداللہ بن ابی بن سلول کے منافقانہ اقوال (جن کا ذکر قرآن پاک میں آیۃ کریمہ (لئن رجعنا الی المدینۃ لیخرجن الاعز منہا الاذل میں ہے) کو حضرت سے نقل کیا تھا مگر عبداللہ انکار کر گیا اور زید کو صحابہ ؓ نے سچا نہ جانا اس کے بعد سورت منافقین نازل ہوئی جس میں زید کی تصدیق کی گئی تھی زید حضور انور ﷺ کے ساتھ سترہ غزوات میں شریک ہوئے ٢٢ ھ میں وفات پائی۔ تمام کتب صحاح میں آپ کی بکثرت احادیث مروی ہیں مختصر یہ کہ آپ ایک بہت بڑے پائے کے صحابی ہیں۔ اس حدیث میں بھی کتاب اللہ (قرآن مجید) کی طرف اپنی توجہ دلائی ہے اور اپنے اہل کے حقوق بھی یاد دلائے اور اہل بیت کی عظمت بیان فرما دی کہ تم لوگ میری نسبت کے خیال سے ان کے حقوق کی ادائیگی میں جتنے زیادہ سرگرم رہو گے او ان کی ہر طرح کی خبر گیری میں جنتا زیادہ حصہ لو گے اتنا ہی تمہارے حق میں بہتر ہوگا اور تمہیں دنیا و آخرت میں خیر و عافیت نصیب ہوگی آپ ﷺ کا یہ فرمانا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص باپ دم رخصت اپنی اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے کہ میں یہ اپنی اولاد چھوڑ کر جار ہا ہوں تم ان کی خوب دیکھ بھال کرنا اور ان کے حقوق و مفادات کا تحفظ کرنا۔ اور یہ دونوں الگ الگ نہیں ہوں گی یعنی قیامت کے تمام مواقف و مراحل پر ان دونوں یعنی کتاب اللہ اور عترت رسول کا ساتھ رہے گا، کہیں بھی یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گی۔ یہاں تک کہ یہ دونوں مل کر حوض کوثر پر میرے پاس آئیں گی اور دنیا میں جس جس نے ان دونوں کے حقوق اچھی طرح ادا کئے ہوں گے اس کا نام لے کر میرے سامنے شکریہ ادا کریں گی اور پھر میں بدلہ میں ان سب کے ساتھ نہایت اچھا سلوک اور احسان کروں گا اور اللہ تعالیٰ بھی ان سب کو کامل جزا اور انعام عطا فرمائیں گے اور ان لوگوں نے دنیا میں ان دونوں کی حق تلفی کی ہوگی اور دونوں کے ساتھ کفران نعمت کیا ہوگا ان کے ساتھ اس کے برعکس معاملہ ہوگا۔ پس تم دیکھو کہ یعنی میں نے ان دونوں کو حیثیت و اہمیت تمہارے سامنے واضح کردی ہے۔ اب تمہیں خود اپنا احتساب کرنا ہے کہ ان دونوں یعنی کتاب اللہ اور میری عزت کے تئیں تم میرے خلف الصدق ثابت ہوتے ہو یا ناخلف۔ اگر تم نے میرے بعد دونوں کو مضبوطی سے پکڑے رکھا اور ان کے ساتھ وابستگی رکھی جو ان کا حق تو میرے خلف الصدق قرار پاؤ گے اور اگر ان کے ساتھ اچھی وابستگی نہ رکھی اور ان کے تئیں اچھا رویہ اختیار نہ کیا تو ناخلف سمجھے جاؤ گے۔
Top