Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (5792 - 5871)
Select Hadith
5792
5793
5794
5795
5796
5797
5798
5799
5800
5801
5802
5803
5804
5805
5806
5807
5808
5809
5810
5811
5812
5813
5814
5815
5816
5817
5818
5819
5820
5821
5822
5823
5824
5825
5826
5827
5828
5829
5830
5831
5832
5833
5834
5835
5836
5837
5838
5839
5840
5841
5842
5843
5844
5845
5846
5847
5848
5849
5850
5851
5852
5853
5854
5855
5856
5857
5858
5859
5860
5861
5862
5863
5864
5865
5866
5867
5868
5869
5870
5871
مشکوٰۃ المصابیح - معجزوں کا بیان - حدیث نمبر 5949
افضلیت صحابہ
شرح السنۃ میں ابومنصور بغدادی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ہمارے تمام علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین میں سب سے افضل خلفاء اربعہ ہیں اور ان میں بھی ترتیب کا اعتبار ہے یعنی سب سے افضل حضرت ابوبکر صدیق ہیں، ان کے بعد حضرت عمر فاروق، ان کے بعد حضرت عثمان غنی اور ان کے بعد حضرت علی۔ خلفاء اربعہ کے بعد سب سے افضل وہ تمام صحابہ ہیں جن کو عشرہ مشبرہ کہا جاتا ہے۔ ان کے بعد سب سے افضل وہ صحابہ ہیں جو جنگ بدر میں شریک تھے، ان کے بعد سب سے افضل وہ صحابہ ہیں جو جنگ احد میں شریک تھے، ان کے بعد بیعت رضوان میں شریک صحابہ، ان کے بعد وہ انصار صحابہ جنہوں نے دونوں مرتبہ بیعۃ العقۃ الاولی اور بیعۃ العقۃ الثانیہ کے موقع پر مکہ میں آکر آنحضرت ﷺ سے بیعت کی تھی۔ اسی طرح وہ صحابہ جن کو سابقون اولون کہا جاتا ہے یعنی جنہوں نے قبول اسلام میں سبقت کی اور ابتداء اسلام ہی میں مسلمان ہوگئے تھے اور جن کو دونوں قبیلوں یعنی بیت المقدس اور کعبہ مکرمہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑہنے کا موقع ملا ان صحابہ سے افضل ہیں جو ان کے بعد دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور حضرت خدیجہ الکبری ؓ کے بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں کہ کون دوسری سے افضل ہے اسی طرح حضرت عائشہ اور حضرت فاطمہ کے بارے میں بھی اختلافی اقوال ہیں واضح رہے کہ حضرت معاویہ عدول اہل فضل اور خیار صحابہ میں سے ہیں، ان کے بارے میں کوئی بھی برا خیال رکھنا یا ان کی شان میں کوئی ایسی بات کہنا جو مرتبہ صحابیت کے منافی ہو اسی طرح ممنوع جس طرح دوسرے صحابہ کے بارے میں۔ رہی یہ بات کہ بعض صحابہ کے درمیان جو باہمی نزع ہوا، یا باہمی جنگ وجندل کے نوبت آئی تو اس پر بحث وتمحیص کرنا اور اس کوئی نتیجہ نکال کر کسی کی تنقیص کرنا ہمارا مقام نہیں ہے، وہ سارے معاملات ان کے اپنے اجتہاد سے تعلق رکھتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی صحابی ایسا نہیں تھا جس نے ان معاملات میں نفسانی تقاضوں یا دنیاوی اغراض کے تحت شرکت کی ہو، وہ سب صحابہ اپنے اپنے موقف کے درست اور جائز ہونے کا اعتقاد رکھتے تھے اور اپنی باہمی لڑائیوں اور تنازعات کی بنا پر ان میں سے کوئی عدول کے زمرہ سے خارج نہیں ہوگا اور نہ اس کی حیثیت اور اس کے مرتبہ میں کوئی نقص آیا، مختصر یہ کہ اہل سنت و جماعت کا مسلک یہ ہے کہ ان کے بارے میں زبان کھولتے وقت محتاط رہا جائے، ان کے حق میں منہ سے وہی بات نکالی جائے جو تعریف اور بھلائی کی ہو، اگر ان میں سے کسی کے متعلق کوئی ایسی چیز منقول ہو جو بظاہر تعریف کے کام کے خلاف نظر آتی ہو تو اس سے نظر کیا جائے۔ دین و ایمان کی سلامتی اسی میں ہے۔
Top