Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (192 - 266)
Select Hadith
192
193
194
195
196
197
198
199
200
201
202
203
204
205
206
207
208
209
210
211
212
213
214
215
216
217
218
219
220
221
222
223
224
225
226
227
228
229
230
231
232
233
234
235
236
237
238
239
240
241
242
243
244
245
246
247
248
249
250
251
252
253
254
255
256
257
258
259
260
261
262
263
264
265
266
مشکوٰۃ المصابیح - علم کا بیان - حدیث نمبر 4882
وعن جبير بن مطعم قال : أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم أعرابي فقال : جهدت الأنفس وجاع العيال ونهكت الأموال وهلكت الأنعام فاستسق الله لنا فإنا نستشفع بك على الله نستشفع بالله عليك . فقال النبي صلى الله عليه و سلم : سبحان الله سبحان الله . فما زال يسبح حتى عرف ذلك في وجوه أصحابه ثم قال : ويحك إنه لا يستشفع بالله على أحد شأن الله أعظم من ذلك ويحك أتدري ما الله ؟ إن عرشه على سماواته لهكذا وقال بأصابعه مثل القبة عليه وإنه ليئط أطيط الرحل بالراكب رواه أبو داود
عرش الہٰی کا ذکر :
اور جبیر ابن مطعم ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ کی خدمت میں ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا کہ (ہمارے ہاں خشک سالی کی وجہ سے) انسانی جانیں قحط کا شکار ہورہی ہیں، بال بچوں کو بھکری کا سامنا ہے، مال وجائداد کی بربادی ہورہی ہے اور مویشی ہلاک ہو رہے ہیں، لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لئے بارش مانگئے، ہم اللہ تعالیٰ کے حضور آپ ﷺ کو وسیلہ بناتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو آپ ﷺ کے ہاں شفیع مقرر کرتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے یہ سن کر فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات پاک منزہ ہے، اللہ تعالیٰ کی ذات پاک منزہ ہے، آپ ﷺ باربار تسبیح کے یہی الفاظ فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے صحابہ کے چہروں کا رنگ بدل گیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا اے شخص تجھ پر افسوس ہے درحقیقت اللہ کو کسی کے ہاں شفیع مقرر نہیں کیا جاتا اور نہ اس کو وسیلہ بنایا جاتا ہے بلاشبہ اللہ کی ذات اور اس کی حیثیت اس سے بالا تر ہے کہ اس کو کسی کا وسیلہ و ذریعہ بنایا جائے تجھ پر افسوس کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ کی عظمت و جلالت کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس کا عرش اس کے آسمانوں کو اس طرح محیط ہے یہ کہہ کر آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو ہتھلی کے اوپر قبا کی صورت میں دکھایا یعنی آپ ﷺ نے ہاتھ کو گنبد کی صورت میں بنا کر دکھایا کہ جس طرح یہ گنبد نما ہاتھ ہتھلی کو گھیرے ہوئے ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کا عرش زمین تو زمین تمام آسمانوں تک کو اپنے نیچے گھیرے ہوئے ہے اور وہ عرش اس قدر وسیع و عریض ہونے کے باوجود اس طرح چرچر کرتا ہے جس اونٹ کا پلان یا گھوڑے کی زین (بھاری بھر کم) سوار کے نیچے چرچر کرتی ہے (ابوداؤد)
تشریح
ہم اللہ تعالیٰ کو آپ ﷺ کے ہاں شفیع مقرر کرتے ہیں اس جملہ سے اس دیہاتی کی مراد یہ تھی کہ ہم اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں آپ ﷺ کی ذات کو اور آپ ﷺ کی عظمت و بزرگی کو اپنا وسیلہ بناتے ہیں آپ ﷺ کو اپنا شفیع قرار دیتے ہیں اور آپ ﷺ سے یہ دعا کرنے کی درخواست کرتے ہیں کہ پروردگار ہمارے حال پر رحم فرما کر بارش برسادے نیز آپ کی سفارش و توجہ چاہنے کے لئے ہم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ملتجی ہیں کہ وہ آپ ﷺ کو ہماری طرف متوجہ کردے آپ ﷺ کو ہمارے حق میں سفارش کرنے کی توفیق عطا فرمائے لیکن اس نے اپنی یہ مراد ظاہر کرنے کے لئے موزوں اسلوب اختیار نہیں کیا جب کہ گھبراہٹ میں اس کی زبان سے ایسے الفاظ نکلے جن سے نہ صرف یہ کہ اس کی اصل مراد خبط ہوگئی بلکہ یہ ظاہر ہوا کہ وہ خود اللہ تعالیٰ کو آپ ﷺ کی بارگاہ میں وسیلہ بنا رہا ہے اور اس طرح اس معاملہ میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اس کے نظام اور اس کے حکم واختیار میں آنحضرت ﷺ کو شریک و برابر کررہا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اپنے حکم واختیار اور اپنے نظام قدرت میں کسی بھی طرح مشارکت اور کسی بھی طرح ہمسری کی روادار نہیں ہے ارشاد ربانی ہے لیس لک من الامرشیئ خدا کے نظام میں آپ ﷺ کو کوئی دخل نہیں اور یہ بھی فرمایا من ذا الذی یشفع عندہ الا باذنہ ایسا کون شخص ہے جو اس کے پاس کسی کی سفارش کرسکے بدوں اس کی اجازت کے۔ لہٰذا اس دیہاتی کا یہ کہنا حضور ﷺ کو نہایت ناگوار ہوا اور آپ ﷺ اس کی طرف سے اس جملہ کی ادائیگی پر اظہار حیرت وتعجب اور اس کو متنبہ کرنے کے لئے بار بار سبحان اللہ سبحان اللہ فرماتے رہے۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ کے صحابہ کے چہروں کا رنگ بدل گیا۔ یعنی آنحضرت ﷺ کے بار بار سبحان اللہ کہنے سے اس مجلس میں موجود صحابہ سمجھ گئے کہ دیہاتی کے اس کہنے سے آپ ﷺ کو شدید ناگواری اور غصہ ہے، لہٰذا آنحضرت ﷺ کے غضب وغصہ کو محسوس کرکے وہ سب بھی ڈر گئے اور خوف اللہ سے ان کے چہروں کا رنگ بدل گیا اور پھر آنحضرت ﷺ نے جب ان صحابہ کے چہروں پر خوف اللہ کا اثر دیکھا تو آپ ﷺ نے سبحان اللہ کہنا موقوف کردیا اور اس دیہاتی کے طرف روئے سخن نہ کیا۔ وہ عرش اس قدر وسیع و عریض ہونے کے باوجود اس طرح چرچر کرتا ہے الخ۔ کے ذریعہ آپ ﷺ نے گویا اس دیہاتی کی سمجھ کے مطابق اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان کی تمثیل بیان کی اور اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلالت کا اظہار ہے کہ اتنا بڑا عرش بھی اس کے تحمل سے عاجز ہے
Top