Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1499 - 1573)
Select Hadith
1499
1500
1501
1502
1503
1504
1505
1506
1507
1508
1509
1510
1511
1512
1513
1514
1515
1516
1517
1518
1519
1520
1521
1522
1523
1524
1525
1526
1527
1528
1529
1530
1531
1532
1533
1534
1535
1536
1537
1538
1539
1540
1541
1542
1543
1544
1545
1546
1547
1548
1549
1550
1551
1552
1553
1554
1555
1556
1557
1558
1559
1560
1561
1562
1563
1564
1565
1566
1567
1568
1569
1570
1571
1572
1573
مشکوٰۃ المصابیح - جنازوں کا بیان - حدیث نمبر 1541
آرزو اور حرص کا بیان
امل کے معنی ہیں امید رکھنا اور حرص کے معنی ہیں لالچ کرنا یا آرزو و ارادے کو دراز وسیع کرنا، حرص کا تعلق نیک آرزوؤں اور اچھے ارادوں سے بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے۔ آیت (ان تحرص علی ہداہم) اور لفظ حرص کا اطلاق نفسانی خواہشات کے زیادتی اور دنیاوی چیزوں کے لالچ پر بھی ہوتا ہے جو ایک بری چیز ہے، چناچہ قاموس میں لکھا ہے کہ بدترین حرص یہ ہے کہ تم اپنا حصہ بھی حاصل کرلو اور غیر کے حصے کی بھی طمع رکھو۔ حاصل یہ کہ نیک امور جیسے حصول علم، اللہ کے دین کی سربلندی اور اچھے اعمال، اس میں حریص ہونا یعنی آرزؤں اور ارادوں کو دراز و وسیع کرنا، متفقہ طور پر علماء کے نزدیک بہت اچھی بات ہے، اسی لئے حضور ﷺ نے فرمایا۔ طوبی لمن طال عمرہ وحسن عملہ۔ نیز آپ ﷺ نے اپنی عمر کے آخر میں اس آرزو اور ارادہ کا اظہار فرمایا تھا کہ اگر میں اگلے سال تک جیتا رہا تو (محرم کی) نویں تاریخ کو بھی روزہ ضرور رکھوں گا اس کے برخلاف جس آرزو و ارادے کی درازی کا تعلق دنیاوی خواہشات نفس جیسے مال و دولت جمع کرنے اور جاہ و منصب کی طلب سے ہو تو وہ بہت بری بات ہے۔ جہاں تک عنوان کے پہلے لفظ امل کا تعلق ہے تو اس سے مراد دنیاوی امور (یعنی خوش حال زندگی اور محض دنیاوی بہبودی و ترقی وغیرہ) کی امیدوں، تمناؤں اور خیالی منصوبوں کی درازی و وسعت میں اس حد تک مبتلا ہوجانا ہے کہ موت کے لئے مستعد رہنے اور توشہ آخرت تیار کرنے سے غافل ہوجائے۔ اور یہ شان صرف انہی لوگوں کی ہوسکتی ہے جو دین و آخرت سے غافل، اللہ فراموش اور دنیاوی زندگی ہی کو سب کچھ سمجھنے والے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ آیت (ذرہم یأکلوا ویتمتعوا ویلہہم الامل)، یعنی آپ ﷺ ان کافروں کو ان کے حال پر چھوڑ دیجئے کہ (وہ خوب) کھا لیں اور چین اڑا لیں اور خیالی منصوبے (یعنی دنیا بھر کی آرزوئیں اور تمنائیں) ان کو غفلت میں ڈالے رکھیں۔
Top