Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1327 - 1390)
Select Hadith
1327
1328
1329
1330
1331
1332
1333
1334
1335
1336
1337
1338
1339
1340
1341
1342
1343
1344
1345
1346
1347
1348
1349
1350
1351
1352
1353
1354
1355
1356
1357
1358
1359
1360
1361
1362
1363
1364
1365
1366
1367
1368
1369
1370
1371
1372
1373
1374
1375
1376
1377
1378
1379
1380
1381
1382
1383
1384
1385
1386
1387
1388
1389
1390
مشکوٰۃ المصابیح - آداب کا بیان - حدیث نمبر 3223
وعن عامر بن سعد : أن سعدا ركب إلى قصره بالعقيق فوجد عبدا يقطع شجرا أو يخبطه فسلبه فلما رجع سعد جاءه أهل العبد فكلموه أن يرد على غلامهم أو عليهم ما أخذ من غلامهم فقال : معاذ الله أن أرد شيئا نفلنيه رسول الله صلى الله عليه و سلم وأبى أن يرد عليهم . رواه مسلم
سعد بن وقاص کا ایک واقعہ
حضرت عامر بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت سعد بن وقاص ؓ جو عشرہ مبشرہ میں سے ایک جلیل القدر صحابی ہیں اپنی حویلی کی طرف جو مدینہ کے قریب مقام عقیق میں تھی، سوار ہو کر چلے تو راستہ میں انہوں نے ایک غلام کو دیکھا جو ایک درخت کاٹ رہا تھا یا اس درخت کے پتے جھاڑ رہا تھا، حضرت سعد ؓ نے بطور سزا و تنبیہ اس غلام کے کپڑے چھین لئے، پھر جب وہ مدینہ واپس آئے تو غلام کے مالک ان کی خدمت میں آئے اور یہ گفتگو کی کہ انہوں نے جو چیز ان کے غلام سے لی ہے یعنی اس کے کپڑے اسے وہ غلام کو واپس کردیں یا ان مالکوں کو دے دیں۔ حضرت سعد ؓ نے فرمایا کہ اللہ کی پناہ میں اس چیز کو کیسے واپس کرسکتا ہوں جو مجھے رسول اللہ ﷺ نے دلوائی ہے۔ چناچہ سعد نے کپڑے واپس کرنے سے بالکل انکار کردیا۔ (مسلم)
تشریح
ان یرد علی غلامہم او علیہم، حرف او راوی کے شک کو ظاہر کر رہا ہے کہ ان کے مالکوں نے یا تو کہا تھا کہ غلام کے کپڑے غلام کو واپس کردیں یا اس کے بجائے یہ کہا تھا کہ جو کپڑے ہمارے غلام سے لئے ہیں وہ ہمیں دے دیں۔ حدیث کے اس جملہ جو مجھے رسول اللہ ﷺ نے دلوائی ہے۔ کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے اس بات کی اجازت دی تھی کہ جو شخص کسی کو مدینہ میں شکار مارتے یا درخت کاٹتے دیکھے تو وہ اس کے کپڑے ضبط کرلے، لہٰذا کہا جائے گا کہ یا تو یہ حدیث منسوخ ہے یا پھر یہ کہ آپ ﷺ کی طرف سے یہ اجازت زجر تنبیہ کے طور پر دی گئی تھی۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی کا مسلک یہ ہے کہ مدینہ میں شکار مارنے یا درخت کاٹنے کی وجہ سے بدلہ کفارہ واجب نہیں ہوتا بلکہ مدینہ میں یہ چیزیں بغیر بدلہ کے حرام ہیں، جب کہ بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ جس طرح مکہ میں ان چیزوں کے ارتکاب سے بدلہ واجب ہوتا ہے اسی طرح مدینہ میں بھی ان کی وجہ سے بدلہ میں واجب ہوتا ہے لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک مدینہ میں یہ چیزیں حرام نہیں ہیں البتہ مکروہ ہیں۔
Top