Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1327 - 1390)
Select Hadith
1327
1328
1329
1330
1331
1332
1333
1334
1335
1336
1337
1338
1339
1340
1341
1342
1343
1344
1345
1346
1347
1348
1349
1350
1351
1352
1353
1354
1355
1356
1357
1358
1359
1360
1361
1362
1363
1364
1365
1366
1367
1368
1369
1370
1371
1372
1373
1374
1375
1376
1377
1378
1379
1380
1381
1382
1383
1384
1385
1386
1387
1388
1389
1390
مشکوٰۃ المصابیح - جمعہ کا بیان - حدیث نمبر 5802
معراج کا بیان
معراج کا لفظ عروج سے ہے جس کے معنی ہیں، چڑھنا، اوپر جانا۔ اور معراج اس چیز کو کہتے ہیں جو اوپر چڑھنے کا ذریعہ بنے یعنی سیڑھی۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو جو آسمانوں کی سیر کرائی اور وہاں خاص خاص نشانیاں آپ ﷺ کو دکھلائیں۔ اس کو معراج اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ گویا آنحضرت ﷺ کے لئے سیڑھی رکھی گئی۔ جس پر چڑھ کر آپ ﷺ آسمان پر تشریف لے گئے اور ایک روایت میں معراج یعنی سیڑھی کا تذکرہ بھی آیا ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کا عالم بالا کا سفر شروع ہوا تو آپ ﷺ کے لئے سیڑھی رکھی گئی جس کے ذریعہ آسمان کے اوپر تشریف لے گئے اور یہ وہی سیڑھی ہے جس کے ذریعہ فرشتے آسمان سے آمدورفت رکھتے ہیں اور جس پر سے بنی آدم کی ارواح آسمان تک چڑھتی ہیں۔ معراج کا زمانہ اکثر علماء کا قول یہ ہے کہ معراج نبوت کے بارھویں سال یعنی ہجرت سے ایک سال پہلے ربیع الاول کے مہینہ میں ہوئی اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ رمضان کی ستائیس تاریخ کو ہوئی، کچھ حضرات کا قول ستائیسویں رجب کا ہے اور عوام میں بھی یہی مشہور ہے، کچھ حضرات ہجرت سے تین سال پیشتر معراج ہونے کے قائل ہیں۔ معراج اور اسراء کا فرق جاننا چاہئے کہ ایک تو معراج ہے اور ایک اسراء۔ اسراء اس سفر کو کہتے ہیں جو آنحضرت ﷺ نے اس شب میں مسجد حرام ( بیت اللہ) سے مسجد اقصی ( بیت المقدس) تک کیا اور مسجد اقصی سے آسمان تک کے سفر کو معراج کہا جاتا ہے۔ اسراء نص قرآن سے ثابت ہے اور اس کا انکار کرنا دائرہ اسلام سے خارج ہونا ہے اور معراج، مشہور و متواتر حدیثوں سے ثابت ہے، اس کا انکار کرنے والا گمراہ اور بدعتی کہلاتا ہے۔ خواب میں یا عالم بیداری میں اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو جو معراج پیش آئی وہ خواب کا واقعہ ہے یا عالم بیداری کا؟ یہ واقعہ ایک بار پیش آیا یا متعدد بار؟ یا یہ کہ ایک بار تو عالم بیداری میں پیش آیا اور خواب میں متعدد بار پیش آیا؟ یا یہ کہ اگر یہ واقعہ خواب میں بھی پیش آیا تو کیا وہی اصلی واقعہ ہے یا وہ اس حقیقی واقعہ کا ابتدائیہ اور تمہید تھی جو عالم بیداری میں پیش آیا اور اس کا مقصد یہ تھا کہ جسمانی طور پر آسمانوں کے سیر کرنے سے پہلے آپ ﷺ میں روحانی اور نفسیاتی طور پر اس عالم بالا سے ایک گونہ مناسبت اور تعلق پیدا ہوجائے جیسا کہ ابتدائے نبوت میں رویائے صادقہ ہی کو وحی اور عالم بالا سے آپ ﷺ کی مناسبت کا ذریعہ بنایا گیا تھا؟ اور یا یہ کہ اسراء یعنی مسجد حرام سے مسجد اقصی تک کے سفر کا واقعہ تو جسمانی طور پر پیش آیا تھا اور معراج یعنی مسجد اقصی سے عالم بالا تک کا واقعہ محض روحانی طور پر پیش آیا تھا؟ بہر حال ان تمام اقوال اور ان سے متعلق بحث دلائل سے صرف نظر کرتے ہوئے اتنا بتادینا کافی ہے کہ اس بارے میں جو قول تحقیقی اور زیادہ صحیح سمجھا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ معراج کا واقعہ ایک بار پیش آیا ہے اور عالم بیداری میں جسم وروح کے ساتھ پہلے آپ ﷺ کو مسجد حرام سے مسجد اقصی تک پھر مسجد اقصی سے آسمانوں تک اور پھر آسمانوں سے ان خاص مقامات تک جہاں تک اللہ نے چاہا، آپ ﷺ کو لے جایا گیا۔ جمہور فقہا و علماء محدثین و متکلمین اور صوفیاء کا یہی مسلک ہے۔ نیز اس سلسلہ میں آنحضرت ﷺ کی صحیح حدیثیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اقوال نہایت کثرت سے منقول ہیں جن میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اگر معراج کے واقعہ کا تعلق محض خواب سے ہوتا ( جیسا کہ گمان کیا جاسکتا ہے) تو نہ اس غیر معمولی انداز میں اس واقعہ کو بیان کیا جاتا اور نہ اس سے متعلق وہ تمام بحث و تحقیق ہوتی جو علماء ومحققین نے کی ہے، علاوہ ازیں اس مسئلہ کو لے کر بعض لوگوں نے جو فتنہ خیزی اور غوغا آرائی کی ہے نہ وہ ہوتی اور نہ یہ مسئلہ اختلاف و انکار نیز ارتداد کے ابتلاء کا باعث بنتا۔ معراج آنحضرت ﷺ کا خصوصی شرف ہے جسم وروح کے ساتھ معراج کا حاصل ہونا آنحضرت ﷺ کا خصوصی شرف ہے یہ مرتبہ کسی اور نبی اور رسول کو حاصل نہیں ہوا، اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اپنے آخری نبی رسول اللہ ﷺ کی عظمت و برگزیدگی کو ظاہر کرنے کے لئے یہ خارق عادت قدرت ظاہر فرمائی۔ لہٰذا واقعہ معراج کو اسی سیاق وسباق میں دیکھنا چاہئے۔ اس مسئلہ کو عقل و قیاس کے پیمانہ سے ناپنا بےسود بھی ہے اور حقیقت واقعہ کو محض دماغی قابلیت کے بل پر سمجھنا اور سمجھانا گرفتاران عقل کے بس سے باہر بھی ہے یہ مسئلہ خالص یقین و اعتقاد کا ہے بس اس پر ایمان لانا اور اس کی حقیقت و کیفیت کو علم الٰہی کے سپرد کردینا ہی عین عبادت ہے اور ویسے بھی نبوت، وحی اور معجزوں کے تمام معاملات احاطہ عقل و قیاس سے باہر کی چیزیں ہیں، جو شخص ان چیزوں کو قیاس کے تابع اور اپنی عقل و فہم پر موقوف رکھے اور کہے کہ یہ چیز جب تک عقل میں نہ آئے میں اس کو نہیں مانوں گا اور اس پر اعتقاد نہیں رکھوں گا تو سمجھنا چاہئے کہ وہ شخص ایمان کے اپنے حصہ سے محروم ہے، ہاں اولیاء اللہ اور عارفین بیشک معرفت کے ایک خاص مقام تک پہنچنے کے بعد اتنی صلاحیت کے حامل ہوجاتے ہیں کہ ان پر ان چیزوں کی کچھ حقیقت روشن اور واضح ہوجاتی ہے، جو لوگ معرفت کے اس مقام کو نہ پہنچے ہوں ان کے لئے ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ اللہ اور اس کا رسول جو کچھ فرما دیں بس اس کو مان لیں اور بلا چون وچرا اس پر ایمان لے آئیں، سلامتی اور نجات کی راہ اس کے علاوہ کوئی نہیں۔
Top